تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 595 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 595

تاریخ احمدیت - 583 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ فیصلہ کیا ہے اور کس حد تک مسلمانوں کے لئے مفید ہے میں ان دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے جو علم ہوا ہے وہ پانچ ذرائع سے ہے اور وہ سب ہی مخفی ہیں پس میں تفصیلات نہیں بتا سکتا۔ہاں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ انشاء اللہ مسلمانوں کی حالت پہلے سے اچھی ہو جائے گی باقی سیاسی جدوجہد ایسی ہی ہوتی ہے کہ آج ایک طاقت کو انسان حاصل کرتا ہے کل دو سرا اقدام اٹھاتا ہے اہل کشمیر دوسری ریاستوں سے غیر معمولی طور پر آگے قدم نہیں اٹھا سکتے۔ریاستوں کی آزادی ہندوستان کی طرح تدریجی ہوگی۔لیکن ہوگی ضرور یہ ناممکن ہے کہ ریاستیں اب بھی پرانی چال پر چلتی جا ئیں زمانہ انہیں مجبور کر رہا ہے اور کرتا چلا جائے گا۔پس یہ خیال غلط ہے کہ سب کچھ ایک وقت میں حاصل ہو جائے۔جس طرح یہ خیال بھی غلط ہے کہ ریاستیں اپنی پرانی حالت پر قائم رہ سکیں گی۔تیسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ گو آئینی کمیشن کی ترکیب قابل اعتراض ہے اس میں نہ مسلمانوں کی کافی تعداد ہے اور نہ مسلمانوں سے مشورہ کر کے ممبر مقرر کئے گئے ہیں پس یہ تو ہمارا فرض تھا کہ اس کے خلاف پروٹسٹ کریں لیکن پروٹسٹ کرنے کے بعد میرے نزدیک اس کا بائیکاٹ مسلمانوں کے لئے مفید نہیں اس کا نتیجہ یہ ہو گا۔کہ مسلمانوں کا پہلو کمزور ہو جائے گا۔اصل بات یہ ہے کہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اسمبلی کسی نہ کسی شکل میں دینے کا فیصلہ مہاراجہ صاحب کر چکے ہیں۔اب سوال صرف تفصیلات کا ہے پس اگر مسلمان شامل نہ ہوئے تو کام تو رکے گا نہیں صرف نتیجہ یہ ہو گا کہ مسلمانوں کا مشورہ کمزور ہو گا۔جو نقصان دہ ہو گا۔گو میری رائے تو یہی ہے کہ پروٹسٹ کر کے اس میں مسلمان ممبر حصہ لیں۔اور کوشش کریں کہ بہتر سے بہتر صورت اسمبلی کی بن سکے۔کیونکہ گو اصول میرے نزدیک پہلے سے طے شدہ ہیں۔اور اس پر کمیشن کا کوئی اثر نہیں ہو گا لیکن چھوٹی چھوٹی باتیں بھی اچھی باتوں کو زیادہ اچھا بنا دیتی ہیں یا اور خراب کر دیتی ہیں۔پس اس موقعہ سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے۔جب ہم نے پروٹسٹ کر دیا تو دنیا پر یہ ظاہر ہو گیا کہ ہم اس بے انصافی کو نا پسند کرتے ہیں۔اس کے بعد ہماری شمولیت قطعا غلط فہمی نہیں پیدا کر سکتی کیونکہ سیاسی امور میں اس قسم کی شمولیت ہوتی ہی رہتی ہے اور لوگ اس کی حقیقت کو خوب سمجھتے ہیں پس جو فائدہ آپ لوگ اس وقت اٹھا سکتے ہیں کمیشن میں شامل ہو کر اٹھا لیں جو نقص رہ جائے گا اسے انشاء اللہ آئندہ درست کرنے کی کوشش ہوتی رہے گی۔اور ابھی تو اہل کشمیر کے سامنے اپنی تعلیم اور تربیت کا اس قدر کام ہے جو کئی سال تک ان کی تو جہ کو اپنی طرف لئے رہے گا۔چوتھی بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ کئی ہزار آدمی علاقہ کھڑی سے مقامی حکام کے ظلموں سے تنگ آکر جہلم میں آگئے ہیں۔مجھے ان مصیبت زدوں سے ہمدردی ہے لیکن