تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 591 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 591

تاریخ احمدیت جلد ۵ - 579 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیه الواقع وہ سامان مفید بھی ثابت نہیں ہوا گو میرے نزدیک یہ فیصلہ بھی مفید ہو گا۔اور بوجہ اپنے کھلے ہوئے تعصب کے شریف طبقہ کو اور بھی ہمارا ہمدرد بنا دے گا) تو ہمیں نہ مایوسی کی کوئی وجہ ہے اور نہ اپنا طریق عمل بدلنے کی ہمارا اصل پروگرام اسی طرح قائم ہے اور ہم اس کے ذریعہ سے کامیاب ہونے کی کامل امید رکھتے ہیں۔لیکن ہتھیلی پر سرسوں جما کر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق اور کچی قربانیوں اور تنظیم اور دلیل کے ذریعہ ہے۔واخر دعونا ان الحمد لله رب العالمين خاکسار میرزا محمود احمد اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم برادران اہل کشمیر کے نام چوتھا خط (سلسلہ دوم) السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکات : میں نے اس امر کو دیکھ کر کہ حکام کشمیر بغیر اس امر کا خیال کئے کہ میرے خطوط ان کے فائدے کے ہیں یا نقصان کے خطوط کو ضبط کرتے رہے ہیں آئندہ خط لکھنے میں وقفہ ڈال دیا تھا لیکن جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے میں آپ لوگوں کے کام کے لئے دہلی گیا تھا۔اور جموں بھی مناسب کوشش کرتا رہا ہوں سو الحمد للہ کہ سرراجہ ہری کشن کول صاحب تو ریاست کو چھوڑ گئے ہیں اور نیا انتظام امید ہے کہ مسلمانوں کے حق میں مفید ہو گا گو میرے نزدیک آدمیوں کی تبدیلی نہیں بلکہ قانون اور نیت کی تبدیلی سے رعایا کو فائدہ پہنچ سکتا ہے آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے جو کچھ کوششیں کی ہیں۔اس کے نتیجہ میں مجھے امید ہے کہ بہت جلد اہل کشمیر کی اکثر تکالیف دور ہو جائیں گی۔اور ان کی آئندہ ترقی کا سامان پیدا ہو جائے گا۔یہ کس رنگ میں ہو گا اور کب ہو گا۔اس سوال کا جواب دینے سے میں ابھی معذور ہوں ہاں۔۔۔۔۔۔۔آپ لوگ تسلی رکھیں کہ انشاء اللہ ایک ماہ یا اس کے قریب عرصہ میں ایسے امور ظاہر ہوں گے جو آپ لوگوں کے لئے خوشی کا موجب ہوں گے۔اور آپ گزشتہ تکالیف کو بھول جائیں گے لیکن اصل کام اسی وقت سے شروع ہو گا۔کیونکہ حق کا ملنا اور اس سے فائدہ اٹھانا الگ الگ امور ہیں اگر ریاست کشمیر کے مسلمانوں نے حقوق سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی تو سب قربانی ضائع جائے گی۔