تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 590 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 590

احمد بیت - جلد ۵ 578 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کرتے رہیں۔تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ دوسرے لوگ ہم سے مرعوب ہوں گے کیونکہ بیدار قوم کو کوئی نہیں دبا سکتا۔غرض اگر دوسرے لوگ دیکھیں گے کہ کشمیر کے مسلمان اور دوسرے مسلمان اس امر پر مل گئے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے ان کے جائز حق حاصل کریں۔تو جو لوگ دلیل سے ماننے والے نہیں وہ رعب سے مان لیں گے مگر رعب دھمکیوں سے اور مارنے سے نہیں پیدا ہو تا۔بلکہ پختہ ارادہ اور اپنے کام کے لئے مستقل قربانی کے لئے تیار ہو جانے سے پیدا ہو تا ہے مجھے یقین ہے کہ اگر یہ باتیں اہل کشمیر پیدا کر لیں تو نہ ریاست ان کے حق کو دبا سکتی ہے نہ انگریز اس میں اس کی مدد کر سکتے ہیں۔کوئی حکومت اپنے سب ملک کو تباہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتی۔اور کوئی توپ پختہ ارادہ کو زیر نہیں کر سکتی۔پس ہمارا راستہ کھلا ہے اندرونی تنظیم اور اپنے معاملہ کو بار بار دلیل کے ساتھ پبلک میں لانا ان دونوں تدبیروں میں سے کوئی نہ کوئی ضرور اثر کرے گی۔یا تنظیم رعب پیدا کرے گی یا دلیل دل کو صاف کر دے گی۔خواہ ریاست کے حکام کے دلوں کو خواہ انگریزوں کے دلوں کو۔اور جس طرف سے بھی ہمیں حق مل جائے ہم اسے خوشی سے قبول کریں گے اور نہ ریاست سے گفتگو کا دروازہ بند کریں گے۔نہ انگریزوں سے جو بھی ہماری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا اس کی طرف ہم بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے۔اگر آج ریاست ہمارے بھائیوں کے حقوق دینے کو تیار ہو جائے تو ہم اس کے ساتھ مل کر انگریزوں سے کہیں گے کہ ہم لوگوں کی صلح ہو گئی ہے اب آپ لوگ یہاں سے تشریف لے جائیے۔اور اگر انگریزوں کی معرفت ہمیں حق ملے گا تو ہم کہیں گے کہ ہمارے وطنی بھائیوں سے یہ غیر اچھے ہیں۔جنہوں نے انصاف سے کام لیا۔یہی اور صرف یہی عظمندی کا طریق ہے۔اور جو شخص غصہ میں اور در میانی مشکلات سے ڈر کر اپنے لئے خود ایک دروازہ کو بند کر لیتا ہے وہ نادان ہے اور قوم کا دشمن ہے آج ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمار ا حق ریاست سے ملے گا یا انگریزوں سے اور دلیل سے ملے گا یا قربانی کے رعب سے۔پس ہم دونوں دروازوں کو کھلا رکھیں گے اور دونوں طریق کو اختیار کئے رہیں گے۔یعنی انگریزوں اور ریاست دونوں سے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھیں گے اسی طرح علاوہ دلیل کے اپنی تنظیم کو مضبوط کرتے چلے جائیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ کے علم میں جس طرح ہماری کامیابی مقدر ہے۔اسے قبول کر لیں گے۔اور اس کی قضا پر خوش ہو جائیں گے۔میں امید کرتا ہوں کہ میں نے حقیقت کو خوب واضح کر دیا ہے اور بیدار مغز اہل کشمیر مایوسی پیدا کرنے والے لوگوں کی باتوں میں نہیں آئیں گے۔بلکہ ہمت اور استقلال سے اپنے کام میں مشغول رہیں گے۔اور یہ سمجھ لیں گے کہ مڈلٹن رپورٹ ہماری قسمت کا فیصلہ نہیں وہ فیصلہ ہمارے مولانے کرتا ہے۔اور وہ ضرور اچھاہی فیصلہ کرے گا۔مڈلٹن کمیشن مختلف سامانوں میں سے ایک سامان تھا۔اگر فی