تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 582
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 570 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ عرف عام میں خود باغی کہلاتی ہے ان احکام کے نہ ماننے والے لوگ باغی نہیں کہلاتے مگر اس کے متعلق میں تفصیل سے بعد میں لکھوں گا۔اس وقت سب سے اہم بات جو کہنی چاہتا ہوں یہ ہے کہ گلنسی کمیشن اس وقت جلد جلد اپنا کام ختم کر رہا ہے اس کمیشن کی رپورٹ پر انگریزی حکومت کی آئندہ امداد کا بہت کچھ انحصار ہے میں خود بھی اس کمیشن کے سامنے پیش کرنے کو ایک بیان لکھ رہا ہوں لیکن آپ لوگوں کی کئی تکالیف ہوں گی جو مجھے معلوم نہیں اس لئے جس علاقہ میں میرا یہ خط پہنچے وہاں کے لوگوں کو چاہئے کہ اپنی شکایات اور ان کے ثبوت لکھ کر جلد سے جلد مفتی جلال الدین صاحب کو جو مسٹر عبد اللہ صاحب کے جانشین ہیں۔سرینگر بھجوا دیں تاکہ وہ کمیشن کے آگے ان شکایات کو رکھ سکیں۔اس معاملہ میں سستی ہوئی تو بعد میں پچھتانا پڑے گا۔کیونکہ ایسے کمیشن روز روز نہیں بیٹھا کرتے۔مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگ آپ لوگوں کو یہ کہتے ہیں کہ اس کمیشن سے تعاون کا کوئی فائدہ نہ ہو گا لیکن یاد رکھیں کہ آپ کے لیڈر شیخ عبد اللہ صاحب اور دوسرے سب آپ کے خیر خواہوں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ اس کمیشن سے تعاون کیا جائے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کمیشن سے تعاون مفید ہو گا پہلا فائدہ تو یہی ہے کہ اس کمیشن کی بدولت پریس اور تقریر او را انجمنوں کی آزادی کا سوال پیش ہو چکا ہے۔اور تھوڑے دنوں میں اس کے متعلق کارروائی شروع ہو جائے گی اس کے علاوہ بھی امید ہے کہ اور بہت سے فوائد انشاء اللہ حاصل ہوں گے اور جن امور میں اس کمیشن کی رپورٹ نامکمل یا غلط ہوئی ہمارے لئے اس کے خلاف احتجاج کرنے کا پھر بھی راستہ کھلا ہے علاوہ ازیں اس وقت یہ کمیشن ایک طرح روک بن رہا ہے۔جب انگریزی حکومت کو توجہ دلائی جاتی ہے تو اس کے ذمہ دار حکام کہتے ہیں کہ مہاراجہ صاحب ایک کمیشن بٹھا چکے ہیں پس اس کے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہئے پس ہمارا فرض ہے کہ جہاں تک ہو سکے جلد اس کمیشن کا کام ختم کرائیں اور پوری کوشش کریں کہ اس کمیشن کی کارروائی اس رنگ میں تکمیل کو پہنچے کہ کمیشن مجبور ہو کہ کاغذات کی بناء پر مسلمانوں کے حق میں رپورٹ کرے۔دوسرا ضروری امر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ریاست نے اس وقت پر امن لوگوں کے جلسے اور جلوس روک رکھے ہیں سول نافرمانی کے پروگرام والوں اور ہندوؤں کے جلسے اور جلوس کھلے ہیں جیسا کہ گزشتہ دنوں میں۔۔۔کا جلوس نکلا اور اس میں احرار زندہ باد اور قادیانی مردہ باد کے نعرے لگائے گئے کسی کے مردہ باد کہنے سے ہم مر نہیں جاتے پس میں تو کہتا ہوں کہ اگر ہمیں مردہ باد کہہ کر کسی کا دل خوش ہوتا ہے تو چلو یہ بھی ایک ہماری خدمت ہے وہ اسی طرح اپنا دل خوش کر لیں ہم بھی خوش ہیں کہ