تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 581
تاریخ احمدیت به جلد ۵ 569 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ میں بھی مناسب تبدیلی ہو جائے گی۔جس کے لئے میں میر پور کوٹلی راجوری اور بھمبر کے دوستوں کی خواہش کے مطابق کوشش کر رہا ہوں میں اللہ تعالی کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ جلد کوئی آپ لوگوں کی بہتری کے سامان ہو جائیں گے میں نے ولایت پھر تار دی ہے کہ وہاں پہلے سے بھی زیادہ پراپیگنڈا کیا جائے۔اور اصل حالات سے انگریزوں کو واقف کیا جائے۔کیونکہ ریاست میں اس قدر ظلم ہوئے ہیں کہ اس انصاف پسند قوم کو اگر ان کا علم ہو گیا تو یقیناً ایک شور پڑ جائے گا۔اور وہ حکومت پر بے انتہا زور دے گی میں نے اس سلسلہ میں ایک ولایتی خطوں کا سلسلہ بھی شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے یعنی جس طرح میں آپ کو خط لکھتا ہوں اسی طرح ایک خط پارلیمنٹ کے ممبروں وزراء امراء اور ولایتی اخبارات کے ایڈیٹروں کے نام بھی لکھا کروں گا تاکہ انہیں بھی سب حالات کا علم ہوتا رہے اور ہندوؤں کے غلط پروپیگنڈا سے وہ واقف ہوتے رہیں مجھے امید ہے کہ میرے ایک دو خطوں سے وہاں شور پڑ جائے گا۔اور فریب کی چادر جو ریاستی ہندوؤں نے بنی ہے تار تار ہو جائے گی۔اس کے بعد میں آپ لوگوں کو پھر نصیحت کرتا ہوں کہ سول نافرمانی کا لفظ جو بد قسمتی سے بعض لوگوں نے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا اور جس کے سبب انگریزی حکومت نے دھوکہ کھا کر ریاست کو سختی کرنے کی اجازت دے دی تھی اسے بالکل ترک کر دیں اور ہر اک شخص کو سمجھائیں کہ غلط الفاظ استعمال کرنے سے بھی سخت نقصان ہوتا ہے وہ ایسے لفظوں کا استعمال ترک کر دیں اور ایسے طریقوں سے بچیں کہ جن کے ذریعہ سے انگریزی حکومت کو ریاستی حکام دھوکہ دے سکیں یا درکھیں کہ آزادی یا تلوار کے زور سے حاصل ہو سکتی ہے یا انگریزوں کی امداد سے اور تلوار سے آزادی کا حصول آپ لوگوں کے لئے ناممکن ہے پس ایسے طریقے اختیار کرنے جن سے انگریزوں کی ہمدردی بھی جاتی رہے ہرگز عقلمندی کا شیوہ نہیں اس لفظ کے استعمال سے دیکھ لو کہ پہلے کس قدر نقصان ہوا ہے۔صرف میرپور کے علاقہ میں چند نوجوانوں نے غلطی سے سول نافرمانی کا سوال اٹھایا۔اور وہاں کے علاوہ تمام ریاست کشمیر پر ظلم کی انتہا ہو گئی۔کارکن گرفتار ہو گئے عورتوں کی بے عزتی ہوئی اور بچے بلا وجہ بیٹے گئے۔جس سول نافرمانی نے اب تک انگریزی علاقہ میں جہاں رعایا پہلے سے آزاد ہے کچھ نفع نہیں دیا۔بلکہ مسٹر گاندھی اس کے بانی اب تک قید ہیں اور سب مسلمان اس کا تجربہ کر کے اس کی مخالفت کر رہے ہیں اس نے وہاں کیا نفع دیتا ہے سوائے اس کے کہ مہذب دنیا اس کی وجہ سے مسلمانوں کو باغی کہنے لگے اور ریاست کا دلی منشاء پورا ہو۔اور اس کا کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔ہاں ابتدائی انسانی حقوق کے متعلق اگر کسی وقت سب لیڈروں کے مشورہ سے ریاست کے ظالمانہ اور خلاف شریعت احکام کے ماننے سے انکار کیا جائے تو وہ سول نافرمانی نہ ہوگی کیونکہ ابتدائی حقوق سے محروم کرنے والی حکومت