تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 32
تاریخ احمدیت جلد ۵ 32 لافت ثانیہ کا پندرھواں سال تیاری کرنے کی طرف بار بار توجہ دلائی اور اس بارے میں کئی اہم مشورے دیئے مثلا اصل جلسوں کی اہمیت بتانے کے لئے مختلف موقعوں پر مختلف محلوں میں جلسے کریں ، جلسہ کی صدارت کے لئے بار سوخ اور سر بر آوردہ لوگ منتخب کئے جائیں جلسہ گاہ کا ابھی سے مناسب انتظام کرلیں۔اسی طرح جلسہ کے لئے منادی اور اعلان کے متعلق ابھی سے تیاری شروع کر دیں۔اور یہ ذمہ اٹھا ئیں کہ وہ اپنے ماحول میں دو دو تین تین گاؤں میں جلسے منعقد کرائیں گے۔لیکچراروں کی فراہمی کا مسئلہ اس ضمن میں مشکل ترین کام یہ تھا کہ ملک کے عرض و طول : میں تقریر کرنے والے ایک ہزار لیکچرار کیا اور تیار کئے RA جائیں۔شروع شروع میں یہ کام حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے سپرد فرمایا مگر ۱۴/ مارچ ۱۹۲۸ء کو اس کی نگرانی صیغہ ترقی اسلام کے سیکرٹری چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے کے سپرد فرما دی۔حضرت چوہدری صاحب نے مالکانہ تحریک کی طرح اس معاملہ میں بھی انتہائی مستعدی فرض شناسی اور فدائیت کا ثبوت دیا اور زبر دست سعی وجد وجہد سے ہزار سے زیادہ یعنی چودہ سو انیس لیکچرار فراہم ہو گئے یہ لیکچرار وہ تھے۔جن کے نام رجسٹر میں درج تھے ورنہ ۱۷ / جون کے مقررین تعداد میں اس سے بھی بہت زیادہ۔یہاں زیادہ مناسب ہو گا۔کہ چوہدری صاحب کے قلم سے ان مخلصانہ مسائی کا نقشہ پیش کر دیا جائے۔فرماتے ہیں : 1 / مارچ کو میں نے یہ کام اپنے ہاتھ میں لے کر مبلغین میں سے ایک صاحب کو اس کام کے لئے فارغ کر دیا۔جس کے ساتھ عملہ دفتر دعوۃ و تبلیغ بھی بطور معاون کام کرتا رہا۔لیکچرار مہیا کرنے کے لئے اسلامی انجمنوں ، اسلامیہ سکولوں ائمہ مساجد علماء و سجادہ نشینان ممبران ترقی اسلام ایڈیٹران اخبارات ، ممبران لیجسلیٹو کونسلز و اسمبلی اور ہندو معززین و تھیو سائیکل سوسائٹیوں سے خط وکتابت کی گئی اور اس کے علاوہ متعدد اسلامی اخبارات میں پے در پے تحریکات شائع کرنے کے ساتھ صوبجات بنگال، مدراس اور بمبئی کی انگریزی اخبارات میں لیکچرار مہیا کرنے کے لئے اجرت پر اشتہارات دیئے گئے۔ہندوستان کے علاوہ ممالک خارجہ انگلینڈ نائجیریا گولڈ کوسٹ نیروبی و دیگر حصص افریقہ اور شام ، ماریشس ، ایران ، سماٹرا، آسٹریلیا میں بھی مبلغین اور بعض دیگر احباب کو بھی خطوط لکھے گئے۔۱۷ جون کے جلسہ سے چند دن قبل حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا رقم فرمودہ ایک پوسٹر ۱۵ ہزار کی تعداد میں چھپوا کر ہندوستان کے تمام حصوں میں بھیجا گیا جس میں مسلمانوں کو ہر جگہ ۱۷ جون کے دن جلسہ کرنے کی تحریک کی گئی۔ہمارا مطالبہ تمام ہندوستان سے ایک ہزار لیکچرار مہیا کرنے کا تھا۔لیکن اللہ تعالی کے