تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 544
تاریخ احمدیت جلده 532 تحریک آزادی کشمیر ادر جماعت احمد به اور اب بھی اس غرض کو پورا کرنے کے لئے کوشش کر رہا ہوں مشکلات ہیں لیکن مسلمانوں کو مشکلات سے نہیں ڈرنا چاہیئے"۔اس پیغام پر اخبار "انقلاب" (۶/ مئی ۱۹۳۲ء) نے لکھا۔"ہمیں کشمیر کمیٹی کی قابل تحسین خدمات کا تہ دل سے اعتراف ہے اس کمیٹی نے مسلمانان کشمیر کے حقوق کی حمایت اور مظلومین کی مالی اور قانونی امداد میں جس حیرت انگیز سرگرمی عمل اور روح ایثار کا ثبوت دیا ہے وہ محتاج بیان نہیں اور مسلمانوں کو تہ دل سے اس کی شاندار خدمات کا اعتراف کرنا چاہئے ہمیں یہ معلوم کر کے مسرت ہوئی کہ سیاسی قیدیوں کے مسئلہ میں بھی آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے کارکن بالکل "انقلاب" کے ہم خیال ہیں اس کمیٹی کے صدر محترم اور سیکرٹری نے بھی یہی خیال ظاہر کیا ہے کہ بحالات موجودہ سب سے زیادہ ضروری کام یہی ہے کہ کشمیر کے سیاسی قیدی فی الفور رہا کر دیئے جائیں۔آخر کشمیر کمیٹی کی کوششیں بار آور ہوئیں اور ۹ / مئی ۱۹۳۲ء ۱ کو مسٹر یوسف خان صاحب (علیگ) نذیر احمد صاحب عبد القدوس صاحب غلام محمد صاحب (بخشی) اور ۵ / جون ۱۹۳۲ء کو شیر کشمیر شیخ محمد عبد الله صاحب دو سری ۳۵ رفقاء سمیت رہا کر دیئے گئے۔شیر کشمیر شیخ حمد عبد اللہ صاحب نے رہا ہوتے ہی پہلا اہم کام یہ کیا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں درج ذیل مکتوب تحریر فرمایا۔SRINAGAR S۔M۔ABDULLAH M۔Sc (ALIG) مکرم و معظم جناب حضرت میاں صاحب! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔سب سے پہلے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ میں تہ دل سے آپ کا شکریہ ادا کروں اس بے لوث اور بے غرضانہ کوشش اور جدوجہد کے لئے جو آپ نے کشمیر کے درماندہ مسلمانوں کے لئے کی پھر آپ نے جس استقلال اور محنت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو لیا۔اور میری غیر موجودگی میں جس قابلیت کے ساتھ ہمارے ملک کے سیاسی احساس کو قائم اور زندہ رکھا۔مجھے امید رکھنی چاہئے کہ آپ نے جس ارادہ اور عزم کے ساتھ مسلمانان کشمیر کے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد فرمائی ہے۔آئندہ بھی اسے زیادہ کوشش اور توجہ سے جاری رکھیں گے اور اس وقت تک اپنی مفید کوششوں کو بند نہ کریں گے جب تک کہ ہمارے تمام مطالبات صحیح معنوں میں ہمیں حاصل نہ ہو جائیں۔آخر میں پھر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عریضہ کو ختم کرتا ہوں۔میں ہوں۔آپ کا تابعدار شیخ محمد عبد اللہ شیخ محمد عبد الله سید ولی اللہ شاہ صاحب کی جد و جہد اور مجرموں کی سزایابی صاحب کی رہائی سے