تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 543 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 543

تاریخ احمدیت جلد ۵ 531 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ سرداروں کی رہائی ہوئی۔اور اسیروں کو رہائی دلائے گا سے متعلقہ نوشتہ پورا ہوا۔اور آخر ہماری کوشش سے سردار فتح محمد خان صاحب جو موت کے ڈر سے بھاگے پھرتے تھے۔وہ اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تختہ دار پر کھینچے جانے والے انسان کے لئے کتنی بڑی خوشی ہے اور ستم رسیدہ لوگوں کی رہائی اور آزادی کتنی بڑی خدمت ہے جو حضور کے ہاتھوں سے ادا ہوئی"۔سید ولی اللہ شاہ صاحب کی خدمات پر شکریہ اخبار "انقلاب" ۸/ ستمبر ۱۹۳۲ء میں لکھا ہے۔سید ولی اللہ شاہ صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔بحیثیت نمائندہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی لار در اس، تلیل گریز کا دورہ کرتے ہوئے ۹/ اگست کو براہ تر اگر بل بوقت ظہر وارد ہوئے ہم باشندگان بانڈی پورہ جناب پریذیڈنٹ صاحب آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ حضور ممدوح اور ان کے کارکن جو کوشش ہماری گری ہوئی حالت کے سنوارنے کے لئے کرتے ہیں اس کے شکریہ سے عہدہ بر آہونا ہمارے لئے ناممکن ہے "۔وزیر اعظم کشمیر سے کشمیر کمیٹی کے وفد کی ملاقات جب ہری کشن کول کی برطرفی کے بعد مسٹر کالون وزیر اعظم بنے تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ۲۳/ اپریل ۱۹۳۲ء کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا ایک وفد ان کے پاس بھجوایا۔جس نے نئے آرڈی نینسوں کی منسوخی اور شیخ محمد عبد اللہ صاحب اور دوسرے سیاسی قیدیوں کی رہائی پر تبادلہ خیالات کیا۔اہل کشمیر سے خطاب اس کے چند روز بعد حضور نے اہل کشمیر کو توجہ دلائی۔ہر قوم جو زندہ رہنا چاہتی ہو اس کا فرض ہے کہ اپنے لیڈروں اور کارکنوں سے وفاداری کا معاملہ کرے اور اگر کوئی کارکن قید رہیں اور لوگ تسلی سے بیٹھ جائیں تو یہ امر یقینا خطر ناک قسم کی بے وفائی ہو گا۔مسلمانان جموں و کشمیر کو یاد رکھنا چاہئے کہ گو وہ بہت سے فلموں کے تلے دبے چلے آتے ہیں۔لیکن پھر بھی ان کی حالت قیموں والی نہ تھی کیونکہ جب تک ان کے لئے جان دینے والے لوگ موجود تھے۔وہ یتیم نہ تھے۔لیکن اگر وہ آرام ملنے پر اپنے قومی کارکنوں کو بھول جائیں گے تو یقیناً آئندہ کسی کو ان کے لئے قربانی کرنے کی جرات نہ ہو گی۔اور اس وقت یقینا وہ یتیم ہو جائیں گے۔پس انہیں اس نکتہ کو یاد رکھنا چاہئے اور ملک کی خاطر قربانی کرنے والوں کے آرام کو اپنے آرام پر مقدم رکھنا چاہئے۔پس ان کا یہ فرض ہے کہ جب تک مسٹر عبد اللہ قاضی گوہر رحمان اور ان کے ساتھی آزاد نہ ہوں وہ چین سے نہ بیٹھیں اور میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس کام میں ان کی ہر ممکن امداد کروں گا۔