تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 539 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 539

د - جلد ۵ 527 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد چاہتا ہوں کہ اب آپ کا زمانہ گزر چکا ہے۔اب آپ وزیر اعظم نہیں رہ سکتے۔مہاراجہ صاحب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ آپ کو الگ کر دیا جائے اور کالون صاحب کو وزیر اعظم بنا دیا جائے۔یہ سنتے ہی اس کا رنگ فق ہو گیا۔اور کہنے لگا بات تو ٹھیک معلوم ہوتی ہے۔پھر اسی وقت اس نے اپنا موٹر تیار کیا۔اور درد صاحب سے کہا کہ آپ ان سے اجازت لے کر آئیں اور میرے ساتھ چلیں جو شرائط بھی آپ لکھیں گے میں ان پر دستخط کرنے کے لئے تیار ہوں۔انہوں نے کہا اب دستخط کرنے کا وقت نہیں رہا۔کل صبح تم پرائم منسٹر ہو گئے ہی نہیں اس کو ایسا فکر ہوا کہ وہ اسی وقت راتوں رات موٹر پر جموں گیا۔مگر جب صبح ہوئی تو مہاراجہ نے اسے کہہ دیا کہ تمہیں وزارت سے الگ کیا جاتا ہے۔غرض کشمیر کے لوگوں کو جو کچھ ملاوہ میری جدوجہد کے نتیجہ میں ملا اور واقع یہ ہے کہ اگر کشمیر کے لوگ جلدی نہ کرتے تو گورنمنٹ آف انڈیا کی معرفت جو سمجھوتہ ہو تا۔اس میں انہیں زیادہ حقوق مل جاتے اور گائے کا سوال بھی حل ہو جاتا۔میں نے ان واقعات کے بیان کرنے میں بہت سی باتیں چھوڑ دیں اور متنبض والیان ریاست کا نام بھی نہیں لیا اگر میں آخری مرحلہ کی تفصیل بیان کروں تو شاید بعض والیان ریاست اسے اپنی ہتک خیال کریں مگر چونکہ یہ واقعہ اب گزر چکا ہے اس لئے اس کی تفصیل میں پڑنے کی ضرورت نہیں "۔مہاجرین علاقہ میرپور کے خوردونوش اور بازیابی کیلئے جدوجہد جیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے۔علاقہ کھڑی کے ہزاروں مظلوم مسلمان ریاستی حکام کی چیرہ دستیوں کا شکار ہو کر علاقہ انگریزی خصوصاً جہلم میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔مسلمانوں کے قریباً پچاسی گاؤں تھے جو بالکل ویران دیر باد ہو گئے حتی کہ یہ۔کس لوگ مال مویشی اور پکی ہوئی فصلیں تک چھوڑ کر چلے آئے۔اس پر حضور نے سید ولی اللہ شاہ صاحب کو اصلاح احوال کے لئے روانہ فرمایا۔حضرت شاہ صاحب کا بیان ہے کہ ”میں نے مسٹر سالسبری کو بذریعہ تار اطلاع کی کہ میں جہلم آرہا ہوں اور راجہ محمد اکبر کی کوٹھی پر ٹھروں گا۔اگر آپ وہاں تشریف لے آئیں تو مہاجرین کی واپسی کی تدبیر سوچیں۔۔۔۔چنانچہ مسٹر سالسبری جہلم آئے اور میں نے ان سے گفتگو کی اور شرط یہ کی کہ میری موجودگی میں مظلومین کی فریاد سنی جائے۔اور تحقیق کی جائے چنانچہ علی وال کا بنگلہ اس غرض کے لئے مقرر ہوا۔اور میں نے یہ شرط کی کہ کوئی پولیس بوقت تحقیق موجود نہ رہے۔چنانچہ مولوی ظہور الحسن صاحب فاضل معلمی یکے بعد دیگرے مظلومین کو لاری میں لاتے اور ایک ہفتہ تک واقعات کی چھان بین