تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 538
تاریخ احمدیت جلد ۵ 526 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ایک الیکشن میں انہوں نے تمہاری مخالفت کی ہے۔وہ کہنے لگے۔میری بڑی جنگ ہوئی ہے اور اب تو میں نے احمدیت کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔جب اس طرح کوئی فیصلہ نہ ہو اتو گورنمنٹ آف انڈیا نے ایک والی ریاست کو اس غرض کے لئے مقرر کیا کہ کسی طرح اس جھگڑے کا وہ فیصلہ کروا دیں انہوں نے میری طرف آدمی بھیجے اور کہا کہ جب تک آپ دخل نہیں دیں گے یہ معالمہ کسی طرح ختم نہیں ہو گا۔میں نے کہا۔مجھے تو دخل دینے میں کوئی اعتراض نہیں۔میری تو اپنی خواہش ہے کہ یہ جھگڑا دور ہو جائے۔آخر ان کا پیغام آیا کہ آپ دہلی آئیں۔میں دہلی گیا۔چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔دو دفعہ ہم نے کشمیر کے متعلق سکیم تیار کی اور آخر گورنمنٹ آف انڈیا کے ساتھ فیصلہ ہوا کہ ان ان شرائط پر صلح ہو جانی چاہئے۔اس وقت کشمیر میں بھی یہ خبر پہنچ گئی اور مسلمانوں نے سمجھا کہ اگر ہم نے فیصلہ میں دیر کی تو تمام کریڈٹ جماعت احمدیہ کو حاصل ہو جائے گا۔چنانچہ پیشتر اس کے کہ ہم اپنی تجاویز کے مطابق تمام فیصلے کروا لیتے۔مسلمانوں نے ان سے بہت کم مطالبات پر دستخط کر دیئے۔حالانکہ ان سے بہت زیادہ حقوق کا ہم گورنمنٹ آف انڈیا کے ذریعہ فیصلہ کروا چکے تھے۔ا غرض کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کا تمام کام میرے ذریعہ سے ہوا۔اور اس طرح اللہ تعالٰی نے مجھے اس پیشگوئی کو پورا کرنے والا بنایا کہ مصلح موعود اسیروں کا رستگار ہوگا۔ان ہی ایام میں آخری دفعہ جب میں لاہور گیا تو سرہری کشن کول بھی وہاں آئے ہوئے تھے۔ان کا میرے نام پیغام آیا کہ اپنے آدمی بھیج دیں۔تاکہ شرائط کا ان کے ساتھ تصفیہ ہو جائے۔میں نے کہلا بھیجا کہ تصفیه ان ان شرائط پر ہو گا۔اگر مان لو تو صلح ہو سکتی ہے ورنہ نہیں۔وہ کہنے لگے یہ شرائط تو بہت سخت ہیں۔اگر ان کو تسلیم کر لیا گیا تو ہماری قوم بگڑ جائے گی۔میں نے کہا یہ تمہاری مرضی ہے چاہو تو صلح کر لو اور چاہو تو نہ کرو۔ورد صاحب اس کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے۔آخر رات کے گیارہ بجے اس نے کہہ دیا کہ ان شرائط پر صلح نہیں ہو سکتی۔مجھے درد صاحب نے یہ بات پہنچائی تو میں نے ان سے کہا آپ سر ہری کشن کول سے جاکر کہہ دیں کہ اگر ان شرائط پر وہ صلح کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو پھر وہ بھی وزیر نہیں رہ سکتے۔درد صاحب نے یہ بات اسے کسی تو وہ کہنے لگا میں تجربہ کار ہوں میں ایسے بلف (BLUFF) سے نہیں ڈرا کرتا۔میں نے درو صاحب سے کہا آپ ان سے دریافت کریں اور پوچھیں کہ کرنل پکر جموں گیا ہے یا نہیں اگر وہ جموں گیا ہے اور مہاراجہ صاحب سے ملا ہے تو آپ یہ بتائیں کہ کیا مہاراجہ صاحب نے آپ کو وہ باتیں بتائیں ہیں۔اگر نہیں بتا ئیں حالانکہ مہاراجہ آپ کو اپنا باپ کہا کرتا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کو الگ کرنا چاہتا ہے۔چنانچہ میں آپ کو بتا دینا