تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 537
تاریخ احمدیت جلد ۵ 525 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ آخر سر ہری کشن کول نے مجبور ہو کر مجھے لکھا کہ آپ اپنے چیف سیکرٹری کو بھیج دیں۔مہاراجہ صاحب کہتے ہیں میں خود ان سے بات کر کے ان معاملات کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں۔میں نے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو بھیج دیا مگر ساتھ ہی انہیں کہہ دیا کہ یہ پرائم منسٹر کی کوئی چال نہ ہو۔تیسرے دن ان کا تار پہنچا کہ میں یہاں تین دن سے بیٹھا ہوا ہوں مگر مہاراجہ صاحب ملاقات میں لیت و لعل کر رہے ہیں۔میں نے کہا آپ ان پر حجت تمام کر کے واپس آجائیں۔چنانچہ انہوں نے ایک دفعہ پھر ملاقات کی کوشش کی مگر جب انہیں کامیابی نہ ہوئی تو وہ میری ہدایت کے ماتحت واپس آگئے۔چوہدری صاحب کے واپس آنے کے بعد سر ہری کشن کول کا خط آیا۔کہ مہاراجہ صاحب ملنا تو چاہتے تھے مگر وہ کہتے تھے کہ مرزا صاحب خود آتے تو میں ان سے ملاقات بھی کرتا۔ان کے سیکرٹری سے ملاقات کرنے میں تو میری ہتک ہے۔اتفاق کی بات ہے۔اس کے چند دن بعد ہی میں لا ہو ر گیا۔تو سر ہری کشن کول مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔میں نے ان سے کہا کہ مہاراجہ صاحب خود آتے تو میں ان سے ملاقات بھی کرتا۔آپ تو ان کے سیکرٹری ہیں اور آپ سے ملنے میں میری ہتک ہے۔میرا یہ جواب سنکر وہ سخت گھبرایا میں نے کہا پہلے تو میں تم سے ملتا رہا ہوں۔کیونکہ مجھے پتہ نہیں تھا کہ سیکرٹری کے ساتھ ملنے سے انسان کی ہتک ہو جاتی ہے۔لیکن اب مجھے معلوم ہوا کہ اگر سیکر ٹری سے ملاقات کی جائے تو ہتک ہو جاتی ہے۔اس لئے میں اب تم سے نہیں مل سکتا۔گو یا خدا نے فوری طور پر مجھے ان سے بدلہ لینے کا موقع عطا فرما دیا۔آخر اسی دوران میں ایک دن سر سکندرحیات خاں صاحب نے مجھے کہلا بھیجا کہ اگر کشمیر کمیٹی اور احرار میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو حکومت کسی نہ کسی رنگ میں فیصلہ کر دے گی۔میں چاہتا ہوں کہ اس بارہ میں دونوں میں تبادلہ خیالات ہو جائے۔کیا آپ ایسی مجلس میں شریک ہو سکتے ہیں۔میں نے کہا مجھے شریک ہونے میں کوئی عذر نہیں۔چنانچہ یہ میٹنگ سر سکندر حیات خاں کی کوٹھی پر لاہور میں ہوئی اور میں بھی اس میں شامل ہوا۔چوہدری افضل حق صاحب بھی رہیں تھے۔باتوں باتوں میں وہ جوش میں آگئے اور میرے متعلق کہنے لگے کہ انہوں نے الیکشن میں میری مدد نہیں کی اور اب تو ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ احمد یہ جماعت کو کچل کر رکھ دیں۔میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔اگر جماعت احمد یہ کسی انسان کے ہاتھ سے کچلی جاسکتی تو کبھی کی کچلی جا چکی ہوتی اور اب بھی اگر کوئی انسان اسے کچل سکتا ہے تو یقیناً یہ رہنے کے قابل نہیں ہے۔پھر میں نے کہا یہ بھی درست نہیں کہ میں نے الیکشن میں آپ کی مدد نہیں کی ایک الیکشن میں میں نے آپ کی مخالفت کی ہے۔اور ایک الیکشن میں آپ کی مدد کی ہے۔سر سکندرحیات خاں بھی کہنے لگے۔افضل حق تم بات بھول گئے ہو۔انہوں نے ایک الیکشن میں تمہاری مدد کی تھی صرف