تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 536
تاریخ احمدیت جلد ۵ 524 تحریک آزادی کشمیر او ر جماعت احمد یو طبی وفد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے اس انتہائی تشویشناک ماحول میں سب سے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ ڈاکٹر محمد شاہ نواز صاحب ایم بی بی ایس کی قیادت میں ایک طبی وفد بھجوایا۔tt وفد پہلے انسپکٹر جنرل پولیس مسٹر لا تھر سے ملا۔" صاحب بہادر " نے دوران گفتگو میں کہا کہ میں مسلمانوں سے تنگ آگیا ہوں اور میں بغیر مالیہ لئے واپس نہ جاؤں گا اور اس کے لئے انتہائی تدابیر اختیار کرنے پر آمادہ ہوں۔وفد نے اس ملاقات کے بعد سول ہسپتال میرپور میں مجرد حین کا معائنہ کیا اور پھر جہلم میں آیا اور ان مجرد حین کا مشاہدہ کیا جو سول ہسپتال جہلم میں زیر علاج تھے اور واپس آکر مفصل رپورٹ حضور کی خدمت میں پیش کردی۔سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کی ملاقات مسٹر لا تھر سے حضور نے طبی وفد بھیجوانے کے ساتھ سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو تحقیق حالات کے لئے روانہ فرمایا۔فسادات جموں کے بعد حضرت شاہ صاحب واقعات کی تحقیق کے سلسلہ میں مسٹرلا تھر کے پاس پہنچے جو اس وقت میرپور میں تھے۔آپ نے مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم اور ان کی تشویش اور بے چینی کے اسباب وضاحت سے بتائے۔مسٹر لا تھر انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ موجودہ حالات نے مجھے تحمیل معاہدہ کی مہلت ہی نہیں دی۔مسٹر لا تھر نے وزیر اعظم ہری کشن کول کا ایک تار بھی دکھایا جس کا مفہوم یہ تھا کہ زمیندار پہلے مالیہ ادا کریں اس کے بعد تحقیقات کرائی جائے گی۔اگر ضروری ہوا تو مناسب تدابیر اختیار کی جائیں گی۔وزیر اعظم ہری کشن کول صاحب کی برطرفی شاہ صاحب کی تحقیقات سے چو نکہ یہ بات کھل کر سامنے آگئی تھی کہ گزشتہ فسادات کے بھڑ کنے اور زعمائے کشمیر کی گرفتاری اور کشمیر کمیٹی کے نامور کارکنوں کے اخراج کی ذمہ داری وزیر اعظم ہری کشن کول پر عائد ہوتی ہے۔اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کی کوشش تھی کہ انہیں عہدہ وزارت سے موقوف کرا دیا جائے۔چنانچہ آخر فروری ۱۹۳۲ء میں ان کی بجائے مسٹر کالون وزیر اعظم مقرر کر دیئے گئے اور ریاستی مسلمانوں نے اطمینان کا سانس لیا۔اللہ ہری کشن کول صاحب سے متعلق اہم واقعات سید نا حضرت خلیفة الحی الثانی ایده ال تعالیٰ بنصرہ العزیز نے "الموعود" میں کشن کول صاحب سے متعلق واقعات بیان فرمائے ہیں جو حضور ہی کے قلم سے درج ذیل کئے جاتے ہیں۔