تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 532 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 532

تاریخ احمدیت جلد ۵ 520 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ (فصل سوم) فسادات اور ان کی روک تھام زعماء کشمیر کی رہائی کے لئے کامیاب جدوجہد اور مجرموں کی سزایابی ۱۹۳۲ء کا آغاز ظالمانہ آرڈی نینس کے نفاذ میرپور جموں، راجوری، ہندواڑہ بارہ مولا سوپور بھمبر کو ٹلی اور پونچھ میں ڈوگرہ حکومت کے شرمناک مظالم ، مفتی ضیاء الدین صاحب کی جلاوطنی محمد عبد اللہ صاحب اور دوسرے زعماء کشمیر I اور صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی۔اے کے اخراج ریاست سے ہوا۔جبر و تشدد کے اس نئے دور کا سبب یہ ہوا کہ جموں میں امن کی بحالی کے لئے جو انگریزی فوج متعین کی گئی تھی۔وہ مسلمانان جموں کی سر توڑ کوشش کے باوجو د ۲۱/ دسمبر۱۹۳۱ء کو ریاست کشمیر کے زور دینے پر واپس بلائی گئی اور جموں کے نہتے مسلمان پھر ریاستی حکام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیئے گئے۔ادھر جموں میں کشیدگی انتہاء تک پہنچی ادھر میرپور میں یہ ظلم و ستم ہوا کہ انسپکٹر جنرل پولیس گورنر جموں اور وزیر وزارت نے فوج اور پولیس کی معیت میں عدم ادائیگی مالیہ 1 کے سلسلہ میں میرپور کے ایک گاؤں (کھڑی میں چھاپہ مارا۔عورتوں کے زیورات اور دیگر چیزوں کے علاوہ مویشی بھی قرق کرلئے مگر زمینداروں نے کوئی مزاحمت نہ کی حکام تمام مال مویشی اور سامان لے کر جب روانہ ہونے لگے۔تو زمینداروں نے رسیدیں طلب کیں لیکن حکام نے قطعی انکار کر دیا۔اس پر زمیندار نهایت بے دست وپائی اور عجز کے ساتھ مویشیوں کے سامنے لیٹ گئے۔اور رسیدات کا مطالبہ کرنے لگے انسپکٹر جنرل پولیس نے پولیس کو لاٹھی چارج کا حکم دیا۔مگر مسلمان پھر بھی لیے رہے۔آخر گولی چلا دی گئی۔جس سے پانچ مسلمان شہید اور ۲۵ مجروح ہوئے۔اس دہشت انگیزی کے بعد مظالم کا سلسلہ وسیع سے وسیع تر ہو گیا۔اور چند ماہ میں علاقہ میرپور کے ہزاروں مسلمان جن میں مرد عورتیں بچے سب شامل تھے۔تباہ حال ہو کر انگریزی علاقہ میں آگئے اور تین ہزار کے قریب تو صرف جہلم میں پناہ گزیں ہوئے۔ان واقعات کی بازگشت جموں میں یہ ہوئی که / جنوری ۱۹۳۲ء کو جموں کے ہندوؤں نے مہاراجہ کشمیر اور اس کے وزیر اعظم اور دوسرے