تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 530 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 530

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 518 تحریک آزادی کشمیر او ر جماعت احمدیہ کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے "۔حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے احمدیوں میں یوں زبر دست جذبہ اور روح پھونکنے کے بعد خاص آزادی کشمیر سے متعلق پانچ خطبے ارشاد فرمائے۔چنانچہ ۲۲/ جنوری ۱۹۳۲ء کے خطبہ جمعہ میں بعض رویاء و کشوف کی بناء پر فرمایا۔و کشمیر کے مسلمان یقینا غلام ہیں اور ان کی حالت دیکھنے کے بعد جو یہ کہتا ہے کہ ان کو کسی قسم کے انسانی حقوق حاصل ہیں۔وہ یا تو پاگل ہے۔اور یا اول درجہ کا جھوٹا اور مکار۔ان لوگوں کو خداتعالی نے بہترین دماغ دیئے ہیں اور ان کے ملک کو دنیا کی جنت بنایا ہے۔مگر ظالموں نے بہترین دماغوں کو جانوروں سے بد تر اور انسانی ہاتھوں نے اس بہشت کو دوزخ بنا دیا ہے لیکن خدا تعالی کی غیرت نہیں چاہتی کہ خوبصورت پھول کو کانٹا بنا دیا جائے۔اس لئے وہ اب چاہتا ہے کہ جسے اس نے پھول بنایا ہے وہ پھول ہی رہے۔اور کوئی ریاست اور حکومت اسے کانٹا نہیں بنا سکتی۔روپیہ چالا کی مخفی تدبیریں اور پراپیگینڈا کسی ذریعہ سے بھی اسے کانٹا نہیں بنایا جا سکتا۔چونکہ خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہے اس لئے کشمیر ضرور آزاد ہو گا۔اور اس کے رہنے والوں کو ضرور ترقی کا موقع دیا جائے گا۔اگر تم اس میں حصہ لو گے تو گو بظاہر اس بڑھیا کی مثال ہو گی۔جس کے متعلق یہ قصہ مشہور ہے کہ وہ سوت کی انٹی لے کر حضرت یوسف علیہ السلام کو خریدنے گئی تھی۔لیکن ساتھ ہی یہ مت خیال کرو تمہارا حصہ بہت تھوڑا ہے ممکن ہے ہمارا پیسہ یا دھیلہ یا دمڑی ہی اس کی آزادی کا موجب ہو جائے۔اور اگر چہ دنیا کی نظر میں اس کی کچھ حقیقت نہ ہو مگر خدا تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہو کہ اگر وہ دمڑی خرچ نہ کی جاتی تو یہ ملک آزاد نہ ہو سکتا۔دوسری چیز دعا ہے۔میں دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ رمضان کی دعاؤں میں کشمیر کی آزادی کو بھی شامل رکھیں۔اگر ہمارے پاس ریاست کے مقابلہ میں روپیہ نہیں۔آدمی نہیں۔فوجیں نہیں اور دوسرے دنیوی اسباب نہیں تو کچھ پروا نہیں کیونکہ ہمارے پاس وہ ہتھیار ہے جو دنیا کے سارے بادشاہوں کے پاس نہیں اور جس سے تمام حکومتوں کی متحدہ طاقتوں کو بھی شکست دی جاسکتی ہے۔اور وہ دعا ہے "۔اس خطبہ کے بعد حضور نے ۵/ فروری ۱۹۳۲ء کو مسلمانان کشمیر کے لئے ایک پائی فی روپیہ چندہ دینے کی اہم تحریک فرمائی اور ارشاد فرمایا۔تمیں لاکھ انسانوں کی قوم سینکڑوں سال سے ظلم و استبداد کے نیچے چلی آتی ہے۔پھر وہ ہماری تحقیق کے مطابق بنی اسرائیل میں سے ہے۔وہی بنی اسرائیل جنہیں خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ان کے ذریعہ فرعون کے مظالم سے نجات دلائی تھی۔اور کوئی تعجب نہیں کہ وہ پھر