تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 529 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 529

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 517 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ (فصل دوم) حضرت امام جماعت احمدیہ کی طرف سے اہل کشمیر کے لئے مالی و جانی قربانیوں کی پر زور تحریک اور اہل کشمیر سے ایک اہم وعدہ - آل انڈیا کشمیر کمیٹی اگر چہ اصولاً مسلمانان ہند کا ایک ملک گیر ادارہ تھا۔مگر اس کی مالی اور دوسری عملی ذمہ داریاں سب سے زیادہ جماعت نے پوری کرنا تھیں۔اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نہایت اولوالعزمی کے ساتھ سالانہ جلسہ ۱۹۳۱ء پر واضح اعلان فرمایا کہ۔"میں نے اپنے نفس سے اقرار کیا ہے۔اور طریق بھی یہی ہے کہ مومن جب کوئی کام شروع کرے۔تو اسے ادھورا نہ چھوڑے۔میں نے کشمیر کے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے کہ جب تک کامیابی حاصل نہ ہو جائے خواہ سو سال لگیں۔ہماری جماعت ان کی مدد کرتی رہے گی۔اور آج میں اعلان کرتا ہوں کہ کل پرسوں اتر سوں سال دو سال سو دو سو سال جب تک کام ختم نہ ہو جائے ہماری جماعت کام کرتی رہے گی۔حضرت عمر ا کے زمانہ میں ایک حبشی غلام نے ایک قوم سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ فلاں فلاں رعایتیں تمہیں دی جائیں گی جب اسلامی فوج گئی۔تو اس قوم نے کہا کہ ہم سے تو یہ معاہدہ ہے۔فوج کے افسر اعلیٰ نے اس معاہدہ کو تسلیم کرنے سے لیت و لعل کی تو بات حضرت عمر ان کے پاس گئی انہوں نے فرمایا۔مسلمانوں کی بات جھوٹی نہ ہونی چاہئے۔خواہ غلام ہی کی ہو۔مگر یہ غلام کا نہیں جماعت کے امام کا وعدہ ہے پس ہماری جماعت کو مسلمانان کشمیر کی امداد جاری رکھنی چاہئے۔جب تک کہ ان کو اپنے حقوق حاصل نہ ہو جائیں۔خواہ اس کے لئے کتنا عرصہ لگے۔اور خواہ مالی اور خواہ کسی وقت جانی قربانیاں بھی کرنی پڑیں۔ہم نے یہ کام مظلوم مسلمانوں کی امداد کے لئے شروع کیا ہے۔مگر بعض لوگوں نے اس میں کامیابی دیکھ کر یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ہم نے تبلیغ احمدیت کے لئے یہ کام شروع کیا ہے اس کام کی وجہ سے اگر اللہ تعالی کسی کے دل میں ہماری محبت ڈالے تو ہم خدا تعالی کے اس انعام سے انکار نہیں کر سکتے۔مگر اسے ہم تبلیغ احمدیت کا آلہ نہیں بنا سکتے۔اس کام کو چونکہ ہماری جماعت نے ابتغاء لوجه الله شروع کیا ہے۔تاکہ ایک مظلوم قوم آزاد ہو۔اس لئے کسی اپنے نفوذ