تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 525
تاریخ احمدیت جلد ۵ 513 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کمیٹی کو بہت افسوس ہوا۔کیونکہ ڈوگرہ مظالم کے متعلق رپورٹ سراسر غیر منصفانہ اور اس شہادت کے بالکل خلاف تھی جو کمیشن کے روبرو پیش کی گئی۔اس بناء پر کشمیر کمیٹی نے حکومت کشمیر سے مطالبہ کیا کہ وہ مڈلٹن رپورٹ کی مکمل نقل مع شہادتوں کے کمیٹی کو مہیا کرے۔نیز مطالبہ کیا کہ پوری رپورٹ بلا تاخیر شائع کی جائے۔چنانچہ جب بعد کو اصل رپورٹ منظر عام پر آئی تو معلوم ہوا کہ اخبارات کا خلاصہ سخت گمراہ کن اور خلاف اصل تھا۔اور گو مسلمانوں سے پورا پورا انصاف نہیں کیا گیا تھا۔مگر وہ ایسی بری بھی نہیں تھی جیسی کہ خلاصہ سے معلوم ہوتی تھی۔اور اس میں فسادات کی ذمہ داری ریاست کے سول اور فوجی افسروں پر ڈالی گئی تھی مگر چونکہ رپورٹ کے خلاصہ نے مسلمانان کشمیر میں سخت اضطراب و تشویش کی اردو ڈادی تھی۔لہذا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے اہل کشمیر کے نام مطبوعہ خط لکھا جس میں اس رپورٹ پر انتقاد کرتے ہوئے فرمایا۔بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اب ہمیں گلیسنی کمیشن پر کیا اعتبار رہا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گلینسی کمیشن سے بھی خطرہ ہے جس طرح مڈلٹن کمیشن میں خطرہ تھا۔لیکن اگر اس کمیشن نے بھی ہماری امیدوں کے خلاف فیصلہ کیا۔تو ہمارا کیا نقصان ہو گا۔کیا انگریز کے منہ سے نکلی ہوئی بات ہمارے مذہب کی جزو ہے۔اگر مسٹر گلینسی نے مسٹرڈ لٹن والا طریق اختیار کیا تو ہم مڈلٹن رپورٹ کی طرح اس کی غلطیوں کا بھی پردہ فاش کریں گے۔اور اگر اس میں مسلمانوں کے حق میں کوئی سفارش کی گئی تو یقینا اس سے ہم کو فائدہ پہنچے گا"۔گلانسی کمیشن کی رپورٹ اور مسلمانان حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے یہ الفاظ صحیح ثابت ہوئے اور گلانسی کمیشن نے مسلمانوں کے اکثر کشمیر کے حقوق و مطالبات پر مہر تصدیق حقوق و مطالبات کی سفارش کر دی۔اور ان کی معقولیت پر اس طرح صر تصدیق ثبت کر دی کہ ہندو پریس نے احتجا جا لکھا۔"کشمیر کی باگ ڈور مسلمانوں کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے۔۲۲۵ مارچ ۱۹۳۲ء کو کمیشن کی رپورٹ مکمل ہوئی اور مہاراجہ صاحب نے 10 / اپریل ۱۹۳۲ء کو رپورٹ کی سفارشات منظور کرنے کے احکام جاری کر دیئے۔اور اس طرح حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی قیادت میں صرف چند ماہ کی آئینی جدوجہد سے اہل کشمیر کو اکثر و بیشتر وہ حقوق قانونا حاصل ہو گئے جو سکھوں کے عہد حکومت سے چھن گئے تھے۔اور جن کی خاطر اندرون کشمیر اور بیرون ریاست دونوں جگہ ایک لمبے عرصہ سے کوششیں جاری تھیں۔چنانچہ گلانسی کمیشن کے نتیجہ میں خانقاہ "سوختہ"۔خانقاہ شاہدرہ زیارت مدنی صاحب خانقاه بلبل شاه خانقاه دارا شکوه شاهی باغ مسجد، خانقاه صوفی شاه عید گاہ سرینگر وغیرہ مساجد و مقابر اور مقدس مقامات جو مدت سے ڈوگرہ حکومت کے قبضہ میں تھے۔مسلمانوں کو واپس کر دیئے گئے اور آئندہ کے