تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 520
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 508 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ گلانسی کمیشن کے سلسلہ میں چوہدری عصمت اللہ صاحب صوفی عبد القدیر صاحب نیاز کی خدمات بھی یادگار رہیں گی۔چوہدری عصمت اللہ صاحب مڈلٹن کمیشن میں بطور عینی شاہد پیش ہوئے اس کے بعد گلانسی کمیشن کے لئے مواد جمع کرنے میں شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے دست و بازو بن گئے۔مسٹر گلینسی سے موخر الذکر دو اصحاب نے بار بار ملاقاتیں کیں۔اور ان پر مسلم مطالبات کی معقولیت ہر رنگ میں واضح کرنے کی کوشش کی اور جن معاملات میں مسٹر گلینسی کو شرح صدر نہ تھا ان کو دلائل کے ذریعہ اپنا ہم خیال بنانے کی سعی و جد و جہد آخر وقت تک جاری رکھی ان مخلص اور مستعد کارکنوں کے علاوہ سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب مالیہ اور لگان کی تخفیف سے متعلق مسلم مطالبات کو مدلل بنانے کے لئے راولپنڈی، جہلم، سیالکوٹ وغیرہ ملحقہ اضلاع میں تشریف لے گئے اور پٹواریوں اور قانون گوؤں وغیرہ کی مدد سے مالیہ سے متعلق ضروری اور اہم کوائف فراہم کئے جو کمیشن کے مسلمان ممبروں کی طرف سے پیش کئے گئے۔کمیشن جموں میں ڈلٹن اور گلانسی کمیشن سرینگر سے کام ختم کر کے وسط جنوری ۱۹۳۲ء میں سرینگر سے جموں پہنچا جہاں چوہدری عزیز احمد صاحب بی اے۔ایل ایل بی نے اور مولوی غلام مصطفیٰ صاحب بیرسٹر گوجر انوالہ نے ینگ مینز ایسوسی ایشن کی طرف سے مڈلٹن کمیشن کے سامنے گواہوں کے بیانات دلائے۔چوہدری محمد عظیم صاحب باجوہ اس خدمت میں چوہدری عزیز احمد صاحب کا ہاتھ بٹاتے تھے اور لفٹیننٹ محمد اسحق صاحب نے دفتری کام عمدگی سے سنبھالا چنانچہ چوہدری غلام عباس صاحب اپنی کتاب " کشمکش میں تحریر فرماتے ہیں کہ ” میں سرینگر سے جموں پہنچ گیا تھا۔وہاں مسلم ایسوسی ایشن مڈلٹن کمیشن کے روبرو اپنا کیس پیش کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھی۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے دو ایڈووکیٹ مقدمہ کی پیروی کے لئے جموں بھیجے جنہوں نے پوری دلچسپی اور انہماک سے دوماہ تک یہ کام سرانجام دیا"۔جموں کے لیڈر سردار گوہر رحمان صاحب کے خطوط ذیل میں جموں کی ینگ مینز ایسوسی ایشن کے مشہور لیڈر اور ڈکٹیٹر جناب سردار گوہر رحمان صاحب کے چند خطوط کا درج کرنا ضروری ہے ان خطوط سے اس عظیم الشان کام کی نوعیت واہمیت کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔(1)8۔11۔31 مخدومی و معظمی جناب پریذیڈنٹ صاحب آل انڈیا کشمیر کمیٹی - السلام علیکم و رحمتہ اللہ۔مزاج شریف۔چونکہ گلینسی کمیشن کی آمد آمد ہے۔اور کمیشن مذکور کی آمد سے پہلے "مطالبات " کی کاپیاں تمام