تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 504
تاریخ احمدیت۔جلده 492 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کی پوزیشن سے واقف کیا جائے انہوں نے کہا کہ اگر آپ وائسرائے کے پاس پہنچ سکتے ہیں تو میں بھی سیکرٹری آف سٹیٹ فار انڈیا کے پاس جا سکتا ہوں اس پر کلینسی نے رویہ بدل لیا۔اور کہا کہ اگر آپ لوگوں نے مخالفت کی تو میرا مستقبل بالکل تباہ ہو جائے گا۔تب مسٹر لیٹیمر جو کہ گلینسی سے زیادہ ہوشیار تھے انہوں نے درد صاحب کو اپنی طرف مخاطب کر لیا اور کہا کہ آپ بتائیں کہ جو اعلان حقوق کا ہوا ہے۔اس سے آپ متفق ہیں یا نہیں؟ درد صاحب نے کہا کہ ابھی میں نے اس پر غور نہیں کیا۔مسٹریٹیمر نے بکس سے پمفلٹ نکال کر ان کو دے دیا کہ آپ اس کو پڑھ لیں۔جب انہوں نے اسے پڑھ لیا۔تو مسٹر لیٹیمر نے کہا کہ اب میں آپ کو پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں۔جو بات درست ہو اس کی تصدیق کر دیں۔اور جو غلط ہو وہ بتا دیں۔چنانچہ مسٹر لیٹیمر نے اس اعلان کو پڑھنا شروع کیا اس کی اکثر باتوں کی درد صاحب نے تصدیق کی۔اور دو باتوں کے خلاف کہا۔اس پر مسٹریٹیمر نے خواہش ظاہر کی کہ کم سے کم کل جو سرینگر میں جلسہ ہو گا اس میں اس کو کلی طور پر رد نہ کیا جائے۔اور اس کے جو پوائنٹ اچھے نظر آتے ہیں اس کی مخالفت نہ کریں۔درد صاحب نے کہا یہ تو طبعی بات ہے اور درست ہے اور ہم ایسا ہی کریں گے مگر جو غلط بات ہے اس کی ہم تردید بھی کریں گے۔اس پر مسٹریٹیمر نے مسٹر کلینسی سے کہا کہ بس بات ٹھیک ہو گئی۔اکثر باتوں سے ان کو اتفاق ہے اور جن باتوں کو یہ صحیح سمجھتے ہیں ان کی خواہ مخواہ تردید کرنے کے لئے یہ آمادہ نہیں ہیں جب وہ یہ کہہ چکے تو درد صاحب نے ان کو بتایا کہ اس میں اکثر امور وہی ہیں جو ہم نے گورنمنٹ آف انڈیا اور گورنمنٹ آف کشمیر کے ذریعہ خود منظور کرائے ہیں۔ان کی ہم مخالفت کس طرح کر سکتے ہیں۔چنانچہ دو گھنٹے کی گفتگو کے بعد ریذیڈنٹ کا موٹر درد صاحب کو واپس ان کے ہاؤس بوٹ (میں) چھوڑ گیا"۔المختصر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی مسلسل سعی وجدوجہد کے نتیجہ میں مہاراجہ صاحب کشمیر نے ۱۲/ نومبر ۱۹۳۱ء کو ابتدائی حقوق آزادی دینے کا تاریخی اعلان کر دیا۔جس کا مکمل متن یہ تھا۔( یہ اعلان ۱۱/ نومبر ۱۹۳۱ء کا لکھا ہوا تھا) " HA مہاراجہ صاحب کشمیر کا قابل تعریف اعلان رعایا کو ضروری حقوق دینے کا اقرار کچھ عرصہ سے میری توجہ اس قسم کی بعض خاص شکایات کی طرف مبذول رہی ہے جن کا مفاد یہ ہے کہ میری ریاست میں مذہبی آزادی پر قیود موجود ہیں۔ان شکایات کی وجہ سے مجھے بہت ہی سخت ایذا