تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 503 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 503

تاریخ احمدیت جلده 491 IN تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کے ساتھ اکثر تبادلہ خیالات ہو تا رہتا ہے۔اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ آپ کو بتلا سکیں گے۔کہ حکومت ہند نے اس معاملہ میں کس قدر دلچسپی لی ہے۔۔۔کسی قدر یہ ہمیں تسلی بھی تھی کہ صدر صاحب خود ریاست کی سرحد پر آکر اپنے نمائندگان سے مل گئے ہیں اور تمام حالات معلوم کر گئے ہیں۔ا اصدر صاحب کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ مساجد وغیرہ کے اعلان میں صدر صاحب اور ہماری منشاء کے خلاف ہمیں اعلان کو جلد شائع کرنے کے لئے کس طرح سے رائے دی گئی۔جو مجبوری کی حد تک پہنچ گئی۔۔۔کہ ہمیں کشمیر کے نمائندوں نے مجبور کیا تھا کہ ہم اس قسم کا اعلان کر دیں آپ نے صدر صاحب کے خیال کو اس شکل میں رکھا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم معاملہ کو لمبا کرنا چاہتے ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ کسی مفید نتیجہ پر پہنچنے کی غرض سے گفتگو کرنا ہمارا مقصد نہیں یہ محض غلط فہمی ہے افسوس ہے کہ صدر صاحب نے ہماری مصروفیت اور مشکلات کا اندازہ نہیں کیا۔لیکن ہر بات کا علاج وقت اور میعاد ہے۔صدر صاحب عنقریب یقین کرنے پر تیار ہو جاویں گے کہ ہم معاملہ کو لمبا کرنا چاہتے ہیں یا مختصر؟ اور کہاں تک اس کے مشورہ صائب کے مطابق عمل کر رہے ہیں آپ کے لکھنے کے مطابق صدر صاحب کی خواہش محض مسلمانان کشمیر کو حقوق دلوانے کی ہے جس میں حکومت پورے طور سے خود مصروف ہے۔آپ کا صادق جیون لعل - پرسنل اسٹنٹ "۔اگلے دن ۱۱/ نومبر ۱۹۳۱ء کو وزیر اعظم کے پرسنل اسٹمنٹ نے مولوی عبد الرحیم صاحب درد کو چٹھی لکھی کہ وزیر اعظم صاحب ابتدائی حقوق دینے کو تیار ہیں۔ایسا ہی وہ حکومت کی پالیسی کا بھی فیصلہ کریں گے آپ اور صوفی عبد القدیر صاحب بھی تشریف لائیں۔چنانچہ یہ اصحاب وزیر اعظم کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے ملنے کے بعد وزیر اعظم نے ابتدائی حقوق کے اعلان کا مسودہ تیار کیا اور اس کی ایک نقل ریذیڈنٹ کشمیر مسٹر لیٹیمر (MR۔LATIMAR) کو بھی بھجوادی۔مسٹریٹیمر نے ۱۲/ نومبر ۱۹۳۱ء کو مولوی عبدالرحیم صاحب درد سے تشریف لانے کی خواہش ظاہر کی۔چنانچہ آپ رات کے دو بجے ریزیڈنسی پہنچے وہاں مسٹریٹیمر کے ساتھ مسٹر گلینسی بھی بیٹھے ہوئے تھے جو کشمیر کے فساد دور کرنے کے لئے جموں گورنمنٹ کے ساتھ وابستہ کئے گئے تھے۔وہاں کیا گفتگو ہوئی ؟ یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے جس کی تفصیل حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں یہ ہے۔و مسٹرو رو کے پہنچتے ہی مسٹر کلینسی نے نہایت ہی گستاخانہ لہجہ میں کہنا شروع کیا۔کہ آپ نے اس اعلان کی مخالفت کی تو میں آپ لوگوں کو قید کر دوں گا۔اور سزائیں دوں گا۔نیز کہا آپ لوگ ریاست کی مخالفت سے باز نہ آئے تو وائسرائے کو آپ کے خلاف رپورٹ کر دوں گا۔اور گور نمنٹ آف انڈیا کو لکھوں گا جب مسٹر کلینسی نے اس رنگ میں بات کی تو درد صاحب نے بھی مناسب سمجھا کہ اس کو اس