تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 499
تاریخ احمدیت احمدیت جلد ۵ 487 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ (فصل بنم) مہاراجہ صاحب کی طرف سے ابتدائی حقوق دیئے جانے کا اعلان ریاست کشمیر کے حکام نے ظلم و ستم کی حد کر دی تھی۔اور اصلاح احوال کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔مگر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی مساعی جمیلہ کا بالآخر نتیجہ یہ ہوا کہ مہاراجہ ہری سنگھ صاحب نے ۵/ اکتوبر ۱۹۳۱ء کو اپنی سالگرہ کے موقعہ پر شیخ محمد عبد اللہ صاحب اور بعض دوسرے سیاسی قیدیوں کی عام رہائی کا اعلان کر دیا۔مارشل لاء ختم کر دیا اور مسلمانوں کے حقوق و مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنے کا بھی وعدہ کیا۔اس عظیم الشان تغیر پر جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی زبر دست جد و جہد اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی کوششوں سے رونما ہوا تھا شمس العلماء خواجہ حسن نظامی صاحب نے اپنے " روزنامچہ " مورخه ۲۴ / اکتوبر ۱۹۳۱ء) میں لکھا۔حقیقت یہ ہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور اس کے اراکین کی اندرونی کوششوں کا یہ نتیجہ ہے۔بے شک احرار کمیٹی کے کام کا بھی اثر پڑا ہے اور مہاراجہ کی سالگرہ کا بھی کچھ نہ کچھ اس سے تعلق ہے لیکن زیادہ اثر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ولایتی پراپیگنڈا کا ہے۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر نے ممتاز مسلمانوں کے ذریعہ لندن میں کوشش کی۔انگلستان کے بڑے بڑے اخباروں میں ریاست کشمیر کے مظالم کی اطلاعیں شائع ہوئیں اور اخباروں نے ریاست کشمیر کو مطعون کیا۔اور مسلمان لیڈروں نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر کی تحریک کی وجہ سے وزیر ہند پر زور ڈالا۔اور وائسرائے نے ریاست کی حکومت پر زور ڈالا۔جب یہ نتیجہ نکلا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر اور سیکرٹری اور اراکین کی ایک خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اس موقع پر مسلمانوں کو باہمی تفریق سے بچانے کی کوشش کی۔ورنہ بعض مسلمان ریاست کی حکمت عملی کا شکار ہو گئے۔اور انہوں نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر اور سیکرٹری کی نسبت یہ لکھنا اور کہنا شروع کر دیا تھا کہ وہ صحیح عقیدہ کے مسلمان نہیں اس واسطے مسلمان ان کے ساتھ کام نہیں کر سکتے مگر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر اور سیکرٹری اور اراکین نے نہایت عقلمندی اور صبر و ضبط سے کام لیا۔ورنہ بات بڑھ جاتی اور مسلمان آپس میں لڑنے لگتے اور کشمیر کی حمایت کا کام رک جاتا اور کشمیر کے مسلمانوں پر بہت زیادہ ظلم ہونے لگتے۔کیونکہ ریاست کے حکام مسلمانوں کی خانہ جنگی سے مضبوط ہو جاتے "۔