تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 480 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 480

تاریخ احمدیت جلد ۵ 468 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به آزمائی کا امتحان کرنا خطرناک نتائج پیدا کرے گا اس لئے اس نے پانچ منٹ کے اندراند رفتنہ پردازوں کو منتشر ہونے کا حکم دے دیا۔یہ لوگ جس قدر جوش دکھا رہے تھے بغیر مار کھانے کے بلکہ بعض کے مارے جانے سے ہرگز نہیں ملیں گے۔لیکن حیرانی کی کوئی حد نہ رہی۔جب یہ دیکھا کہ جنگ کے بلند بانگ نعرے لگانے والے اور اپنی شجاعت و بسالت سے دنیا کو زیر و زبر کر دینے کے دعوے کرنے والے دم دبا کر ایسے بھاگے کہ مڑکر پیچھے دیکھنے کی جرات بھی نہ کر سکے اور دو منٹ کے اندراندر میدان ان شریروں سے بالکل صاف ہو گیا۔اس کے بعد جناب صدر تقریر کے لئے کھڑے ہوئے اور ایسی زور دار اور موثر تقریر فرمائی کہ سب لوگسبا نہ صرف اپنے زخموں اور چوٹوں کو بھول گئے بلکہ نہایت لطف و سرور محسوس کرنے لگے۔تقریر کے دوران میں سیالکوٹ کے شرفا اور نیک طینت لوگ آخر تک موجود رہے۔تقریر کے دوران میں ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس موٹر میں ادھر ادھر گھومتے رہے اور اختتام پر ڈپٹی کمشنر صاحب نے خود حاضر ہو کر جناب صدر سے اس ہنگامہ کے متعلق اظہار افسوس کیا اور سپرنٹنڈنٹ صاحب اپنی موٹر میں بیٹھ کر جناب صدر صاحب کی فرودگاہ تک ساتھ گئے۔اشرار کی اس شرارت اور احمدیوں کے صبرو استقلال اپنے خلیفہ کے لئے جذبہ خدا کاری اور خطرناک سے خطرناک حالات میں اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس کے احکام کی تعمیل واطاعت کے جوش سے سیالکوٹ کے شریف النفس اور سمجھدار لوگ بے حد متاثر ہوئے۔چنانچہ ان میں سے کئی ایک نے خود حاضر ہو کر مبارکباد پیش کی اور فتنہ پردازوں کی شرارت کے متعلق اظہار نفرت کیا۔ایک معزز مولوی صاحب نے جو مذہبی لحاظ سے جناب صدر سے شدید اختلاف رکھتے ہیں جلسہ کے اختتام پر فرودگاه پر اگر جناب صدر کو مبارکباد دی اور کہا آپ لوگوں نے آج ہمیں رسول کریم کے زمانہ کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقعہ بہم پہنچایا ہے۔مذکورہ بالا واقعات کو مطالعہ کرنے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ کشمیر کمیٹی مسلمانوں کے سر بر آوردہ اصحاب اور لیڈروں نے بنائی تھی جن میں خواجہ حسن نظامی جو نہ ہی رنگ میں جناب مرزا محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالف ہیں اور سر محمد اقبال اور نواب سر ذو الفقار علی ایم ایل اے اور نواب ابراہیم علی خان صاحب آف کرنال و غیرہ وغیرہ کیا اس بات کو نہیں جانتے تھے کہ اس کمیٹی کا صدر اگر مرزا صاحب ممدوح کو بنایا گیا تو بجائے کشمیری مسلمانوں کی مدد کرنے کے یہ احمدیت کا پروپیگنڈا شروع کر دیں گے۔مذکورہ بالا تمام سر بر آوردہ مسلمانوں کو بخوبی علم تھا کہ اس کمیٹی کے کام میں کوئی بھی ایسا کام نہیں۔کہ جس میں احمدیت اور غیر احمدیت کا سوال اٹھ سکے اور اس وقت