تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 479
تاریخ احمدیت جلد ۵ 467 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ الفضل کا بیان ہے کہ " ہمیں معتبر لوگوں نے بتایا ہے کہ بعض ذمہ دار پولیس افسر مفسدوں کی مدد کر رہے تھے اور بعض لوگوں کے متعلق معلوم ہوا ہے۔انہوں نے خود اپنے کانوں سے سنا کہ بعض پولیس افسر اور سپاہی پتھر مارنے کی تحریک کر رہے تھے "۔موجود الوقت پولیس کی اس مجرمانہ غفلت کو دیکھ کر لو کل کشمیر کمیٹی کے بعض معزز ارکان نے ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کو اس حالت سے اطلاع دی اور وہ دونوں صاحبان موٹر میں وہاں پہنچ گئے ان کے آتے ہی انسپکٹر ان ڈیوٹی بھی کہیں سے نکل کر ادھر ادھر گھومتے ہوئے نظر آنے لگے۔افسران مذکور نے شرارت کرنے والوں کو ان کی شرمناک حرکات سے باز رکھنے کی دیانتدارانہ کوشش کی اور ادھر ادھر چکر لگا کر انہیں روکتے رہے لیکن چونکہ بعض کمینہ فطرت شریر درختوں کے اوپر چڑھے ہوئے تھے اور عورتوں کی طرح چھپ چھپ کر حملے کر رہے تھے۔اس لئے ڈپٹی کمشنر و غیرہ کی آمد پر بھی ان کی شرارت کا سلسلہ بند نہ ہوا۔یہ حالت دیکھ کر جناب صدر کشمیر کمیٹی نے مولانا عبد الرحیم صاحب در دایم اے سیکرٹری کشمیر کمیٹی سے ارشاد فرمایا کہ جاکر افسروں سے کہہ دیا جائے۔اگر وہ ان لوگوں پر قابو نہیں پاسکتے تو ہمیں اجازت دیں۔ہم خدا کے فضل سے چند منٹوں کے اندراندران کے حواس درست کر سکتے ہیں احمد کی جو اس موقعہ پر دو ڈھائی ہزار سے تعداد میں کم نہ تھے نہایت جوش کی حالت میں تھے اور اگر ان کے پیرو مرشد اور امام یعنی صدر کشمیر کمیٹی جناب مرزا محمود احمد صاحب کی مسلسل اور متواتر صبر و سکون کے ساتھ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہنے کی ہدایات نے ان کو جکڑا ہوا نہ ہو تاتو اس رات سیالکوٹ کی سرزمین کچھ اور ہی نظارہ دیکھتی جب احمدی چپ چاپ بیٹھ کر زخمی ہو رہے تھے اور اپنے بھائیوں کو لہولہان دیکھ کر اپنے کم سن بچوں کو زخم کھا کر گرتے دیکھ کر اور اپنے زخمیوں پر لحظ بہ لحظ اضافہ پا کر بے مثال حوصلہ اور استقلال کا اظہار کر رہے تھے تو اشرار کو ان کی فتنہ پردازی سے روکنا ان کے لئے کچھ بھی مشکل نہ تھاوہ ہاتھ ہلائے بغیر زخمی ہونے پر ہر عزیز چیز سے عزیز تر مرزا محمود احمد صاحب کی حفاظت اور اپنے بچاؤ کے لئے اشرار کا مقابلہ کرنے کو ترجیح دیتے اور اس طرح ہر تکلیف کو اپنے لئے راحت محسوس کرتے۔لیکن انہوں نے اس موقع پر بھی اپنے امام کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا۔اور اپنی امن پسندی کا اپنے تازہ تازہ اور گرم گرم خون سے ثبوت پیش کرتے رہے۔آخر جب شرارت حد سے بڑھ گئی اور باوجود اعلیٰ حکام کی موجودگی کے رکتی نظر نہ آئی تو مولانا درد صاحب جناب صدر کے ارشاد کے ماتحت ڈپٹی کمشنر کے پاس گئے اور اس سے گفتگو شروع کی۔چونکہ زخمی متواتر اس کے پاس سے گزر رہے تھے اور وہ یہی سمجھ چکا تھا کہ اس سے زیادہ احمدیوں کی صبر