تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 469
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 457 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ (فصل چهارم) یوم کشمیر کے عظیم الشان جلسے اور ان کا رد عمل آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے پہلے اجلاس شملہ میں قرار پایا تھا کہ ۱۴/ اگست ۱۹۳۱ء کو ملک میں "یوم کشمیر " منایا جائے۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے ۶/ اگست ۱۹۳۱ء کو اپنے قلم سے ایک مفصل مضمون لکھا جس میں پر زور تحریک فرمائی کہ کشمیر ڈے پورے اہتمام کے ساتھ منایا جائے چنانچہ آپ نے تحریر فرمایا۔"مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے بہتیں لاکھ بھائی بے زبان جانوروں کی طرح قسم قسم کے ظلموں کا تختہ مشق بنائے جارہے ہیں جن زمینوں پر وہ ہزاروں سال سے قابض تھے ان کو ریاست کشمیر اپنی ملکیت قرار دے کر نا قابل برداشت مالیہ وصول کر رہی ہے۔درخت کاٹنے مکان بنانے، بغیر اجازت زمین فروخت کرنے کی اجازت نہیں۔اگر کوئی شخص کشمیر میں مسلمان ہو جائے تو اس کی جائیداد ضبط کی جاتی ہے۔بلکہ کہا جاتا ہے کہ اہل و عیال بھی اس سے زبر دستی چھین کر الگ کر دیئے جاتے ہیں۔ریاست جموں و کشمیر میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں، انجمن بنانے کی اجازت نہیں۔اخبار نکالنے کی اجازت نہیں غرض اپنی اصلاح اور فلموں پر شکایت کرنے کے سامان بھی ان سے چھین لئے گئے ہیں وہاں کے مسلمانوں کی حالت اس شعر کے مصداق ہے۔نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے گھٹ کے مرجاؤں یہ مرضی میرے صیاد کی ہے E چنانچہ حضور کے تجویز کردہ پروگرام کے مطابق ۱۴ اگست کو ہندوستان کے ہر مشہور شہر اور بستی میں بڑے جوش و خروش سے یوم کشمیر منایا گیا۔قادیان میں مظلومین کشمیر کی حمایت میں مظاہرہ کیا گیا۔اس روز اس شان کا جلوس نکلا کہ قادیان میں کبھی اس کی مثال نہیں ملتی۔جلوس کے علاوہ چودھری فتح مجمد صاحب سیال ایم۔اے (سابق مبلغ انگلستان) کی صدارت میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا اور ڈوگرہ حکومت کے خلاف ریزولیوشن پاس ہوئے اور مظلومین کی امداد کے لئے چندہ کیا گیا۔قادیان کی خواتین کا الگ جلسہ زیر صدارت حضرت سیده مریم بیگم صاحبه (حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) ہوا جس میں حضور کے مجوزہ ریزولیوشنز کے علاوہ یہ قرار داد بھی پاس کی گئی کہ اس جلسہ کی کارروائی سے بذریعہ تار