تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 465 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 465

یخ احمدیت۔جلد ۵ 453 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ جائیں یہ ہندو اور مسلم میں سوتیلے بیٹوں والا فرق آپ کیوں کرتے ہیں۔آخر یا تو وہ یہ کہہ رہے تھے کہ گورنمنٹ ریاستی معاملات میں دخل نہیں دے سکتی۔اور یا یہ کہنے لگے کہ جب مجھے وائسرائے مقرر کیا گیا تھا تو وزیر ہند نے مجھ سے کہا کہ ہندوستان کی سیاسی حالت سخت خراب ہے کیا تم اس کو سنبھال لو گے میں نے کہا میں سنبھال لوں گا۔مگر شرط یہ ہے کہ مجھے چھ مہینہ کی مہلت دی جائے اور مجھ پر اعتراض نہ کیا جائے کہ تم نے کوئی انتظام نہیں کیا۔ہاں اگر چھ مہینے کے بعد بھی میں انتظام نہ کر سکا تو آپ بے شک مجھے الزام دیں۔انہوں نے کہا بہت اچھا چھ مہینے یا سال نہیں میں آپ کو ۱۸ مہینے کی مہلت دیتا ہوں آپ اس عرصہ کے اندر یہ کام کر کے دکھا ئیں۔لارڈ ولنگڈن کہنے لگے وزیر ہند نے تو مجھے ۱۸ مینے کی مہلت دی تھی۔اور آپ مجھے کوئی بھی مہلت نہیں دیتے بلکہ چاہتے ہیں کہ فوری طور پر میں یہ کام کردوں۔میں نے کہا۔اگر یہی بات ہے تو جھگڑے کی کوئی بات ہی نہیں انہوں نے تو ۱۸ مینے کی آپ کو مہلت دی ہے آپ کو ۱۸ سال کی مہلت دینے کو تیار ہوں بشرطیکہ آپ مجھے یقین دلائیں کہ کشمیر کے مسلمانوں کی حالت سدھر جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پانچ چھ ماہ تک مجھے حالات دیکھنے ہیں۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس عرصہ میں مجھ سے جو کچھ ہو سکا۔میں کروں گا اور کشمیر کے مسلمانوں کو ان کے حقوق دلانے کی پوری پوری کوشش کروں گا "۔اس ضمن میں فرماتے ہیں۔”میری اس تجویز کو انہوں نے پسند کیا کہ ایک وفد جو نواب ذوالفقار علی خان صاحب خان بهادر شیخ رحیم بخش صاحب ریٹائرڈ سیشن حج خواجہ حسن نظامی صاحب نواب صاحب کنج پورہ اور مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی پر مشتمل ہو اس کے کشمیر جانے کی درخواست کی جائے۔تاکہ یہ لوگ جا کر صورت حال پر غور کریں اور اگر مسلمانوں کی غلطی ان کو نظر آئے تو ان کو سمجھا ئیں اور اگر ریاست کی غلطی ان کو نظر آئے تو مہاراجہ صاحب کو صحیح مشورہ دیں۔میں نے یہ تجویز اس بات کو خوب سمجھتے ہوئے کی تھی کہ مہاراجہ صاحب اس کو نہیں مانیں گے۔اور اس کا وائسرائے پر نیک اثر پڑے گا۔بعد میں میں نے ڈاکٹر اقبال کا نام بھی اس وفد میں جانے کے لئے تجویز کیا اور اس کے متعلق انہیں سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے تار بھی دی گئی انہوں نے اس کے جواب میں یہ لکھا کہ اس وقت وفد لے جانا میری رائے ناقص میں قرین مصلحت نہیں ہے کچھ ایجی ٹیشن کے بعد ہو تو مناسب ہے۔اہل ریاست کا خیال ہے کہ یہ شورش لاہور سے اٹھی ہے۔اس واسطے اول تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وفد کو باریابی کی اجازت نہ ہو۔اگر ہو بھی تو گور نمنٹ کشمیر اس کا بے جا فائدہ اٹھائے گی خود اہل خطہ بھی اس بات کو پسند نہ کریں گے۔آج میرواعظ صاحب کا اعلان شائع ہوا ہے کہ ان کے دستخط اس اعلان پر جعلی بنائے گئے ہیں ریاست کے بعض مسلمانوں نے غالبا کشمیر