تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 464 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 464

تاریخ احمدیت جلد۵ 452 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ (فصل سوم) حکومت ہند و حکومت کشمیر سے رابطہ اور خط و کتابت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ چونکہ شروع سے کشمیر کے معاملہ میں دلچسپی لے رہے تھے اس لئے جب آپ ۲۴/ جولائی ۱۹۳۱ء کو کانفرنس میں شرکت کے لئے شملہ تشریف لائے تو آپ نے شملہ پہنچتے ہی ۲۴ اور ۲۷/ جولائی ۱۹۳۱ء کو وائسرائے کو ملاقات کے لئے لکھا۔جس کا جواب ۳۰/ جولائی کو ایکم اگست ۱۹۳۱ء کو ہز ایکسی لینسی وائسرائے آپ سے ملاقات کر سکیں گے۔اور ان کو اس بات پر بھی کوئی اعتراض نہ ہو گا کہ آپ کے فارن سیکرٹری مولوی عبدالرحیم صاحب درد آپ کے بطور ترجمان ہوں۔چنانچہ حضور یکم اگست ۱۹۳۱ء کو وائسرائے ہند لارڈن و لنگڈن) سے ملے اس وقت مولانا در دبھی آپ کے ساتھ تھے۔اس ملاقات کی تفصیل اور اس کے نتائج خود حضور ہی کے الفاظ میں یہ ہیں۔" پہلے تو وہ بڑی محبت سے باتیں کرتے رہے جب میں نے کشمیر کا نام لیا۔تو وہ اپنے کوچ سے کچھ آگے کی طرف ہو کر کہنے لگے۔کہ کیا آپ کو بھی کشمیر کے معاملات میں انٹرسٹ ہے آپ تو نہ ہی آدمی ہیں مذہبی آدمی کا ان باتوں سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔میں نے کہا میں بے شک مذہبی آدمی ہوں اور مجھے مذہبی امور میں ہی دخل دینا چاہئے۔مگر کشمیر میں تو لوگوں کو ابتدائی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں اور یہ دہ کام ہے جو ہر مذہبی شخص کر سکتا ہے۔بلکہ اسے کرنا چاہئے۔اس لئے مذہبی ہونے کے لحاظ سے بھی اور انسان ہونے کے لحاظ سے بھی میرا فرض ہے کہ میں انہیں وہ ابتدائی انسانی حقوق دلواؤں جو ریاست نے چھین رکھے ہیں آپ اس بارے میں کشمیر کے معاملات میں دخل دیں۔تاکہ کشمیریوں پر جو ظلم ہو رہے ہیں ان کا انسداد ہو۔وہ کہنے لگے آپ جانتے ہیں کہ ریاستوں کے معاملات میں ہم دخل نہیں دیتے۔میں نے کہا میں یہ جانتا تو ہوں مگر کبھی کبھی آپ دخل دے دیتے ہیں۔چنانچہ میں نے کہا کیا حیدر آباد میں آپ نے انگریز وزیر بھجوائے ہیں یا نہیں کہنے لگے تو کیا آپ کو پتہ نہیں نظام حیدر آباد کیسا مناتا ہے۔میں نے کہا یہی بات تو میں کہتا ہوں کہ آخر وجہ کیا ہے کہ نظام حیدر آباد بر امنائیں تو آپ ان کی پروانہ کریں اور مہاراجہ صاحب کشمیر بر امنائیں تو آپ ان کے معاملات میں دخل دینے سے رک