تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 463
تاریخ احمدیت جلد ۵ 451 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ سکے تو اس کی کئی نقلیس کر کے دوسرے گاؤں کے دوستوں کو بھجوا دے۔اگر پورا خط نقل نہ ہو سکے تو اس کا خلاصہ ہی لکھ کر دوسرے دوستوں کو اطلاع کر دے"۔چنانچہ اس نصیحت کے مطابق مطبوعہ مکتوبات کشمیر و جموں کے طول و عرض میں پہنچتے رہے۔اور مسلمانان ریاست میں آزادی و حریت کے جذبات و احساسات کو زندہ رکھنے میں ممد و معاون بنتے رہے۔اصل بات یہ ہے کہ ان خطوط میں چونکہ بعض برطانوی افسروں پر بھی تنقید کی گئی تھی اس لئے بعض انگریز افسروں نے ریاستی احکام ضبطی کی تائید کی۔یہ بات چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو سر میاں فضل حسین صاحب سے ایک ملاقات کے دوران معلوم ہوئی۔چنانچہ انہوں نے حضور ایدہ اللہ تعالٰی کی خدمت میں ۱۷ / مارچ ۱۹۳۲ء کو ایک مکتوب میں اطلاع دی کہ۔مسٹر میکنائن ، سرچارلس والٹن اور مسٹر ایمرسن نے یہ شکایت کی ہوئی تھی کہ حضور کے اردو مطبوعہ خطوط اس قسم کے تھے جن کے نتیجہ میں قومی منافرت ریاست میں اور پنجاب میں بڑھنے کا اندیشہ تھا خصوصیت سے مڈلٹن رپورٹ کے متعلق جو خط تھا اس کے متعلق شکایت تھی کہ اس میں ایک شخص کی مفروضہ غلطی کی بناء پر برطانوی انصاف پر الزام لگایا گیا ہے۔۔۔مسٹر ایمرسن نے لکھا تھا کہ یه مطبوعه خطوط نامناسب اور نقصان دہ ہیں لیکن اس کی ذمہ داری صدر کمیٹی پر ہے۔اس کی بناء پر وفد سے انکار نہیں کرنا چاہئے"۔