تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 446 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 446

تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 434 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمد به کے ممبروں اور انڈیا آفس کے افسروں تک پہنچتا تھا۔ہمیٹی کے اخبار ”سوشل ریفار مر" کے ایڈیٹر نٹراجن (NATRAJAN) نے اپنے اخبار میں لکھا کہ "سن رائز " جس جرأت اور قابلیت سے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔مسلمانوں کا کوئی اور اخبار نہیں کرتا۔اس اخبار کے اداریے عموماً حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے لکھے ہوئے تھے (گو حضور کا نام نہیں ہو تا تھا) اور ملک صاحب فصیح اور شستہ اور رواں انگریزی میں ترجمہ کر کے بطور اداریہ شائع کر دیتے تھے۔ان اخبارات کے علاوہ اسلامی پریس " میں سے اخبار "انقلاب" (لاہور) "سیاست" (لاہور) " منادی" (دہلی) "ہمت " (لکھنو) نے کشمیر کمیٹی سے خاص تعاون کیا اور نہ صرف اس کے اجلاسوں کی کارروائی شائع کی۔بلکہ تحریک کے حق میں آواز بلند کی۔چونکہ مسلم پریس میں اخبار "انقلاب" تحریک کشمیر کی تائید میں بڑا اہم کردار ادا کر رہا تھا۔اس لئے حکام کشمیر نے اس پر مقدمہ چلانا اله ۱۵ الله چاہا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو علم ہوا تو حضور نے ایڈیٹر صاحب "انقلاب کو تار دیا کہ - " مجھے یہ سن کر بہت مسرت ہوئی کہ حکوت کشمیر "انقلاب" کے خلاف مقدمہ چلانا چاہتی ہے۔اگر ایسا ہوا تو ہمیں موقعہ ملے گا کہ ہم کشمیر کے مظالم کو انگریزی عدالت میں بے نقاب کریں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میری ہر قسم کی تائید و حمایت آپ کے ساتھ ہو گی"۔ای طرح "انقلاب" سے پانچ ہزار کی ضمانت طلب کی گئی تو مدیران انقلاب نے اعلان کیا کہ ضمانت داخل خزانہ کرانے کی بجائے وہ اخبار بند کر دیا جائے گا۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے عبد المجید صاحب سالک اپنی " سرگزشت" میں لکھتے ہیں۔” دوستوں اور قدر دانوں کے تار پر تار آنے لگے۔صاجزادہ سر عبد القیوم (پشاور) مرزا محمود احمد (قادیان) شعیب قریشی (بھوپال) نے آمادگی ظاہر کی کہ ہم پوری ضمانت داخل کر دینے کو تیار ہیں۔"انقلاب" بند نہ ہونا چاہئے"۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا اندرونی نظم ونسق شروع شروع میں جبکہ کمیٹی کا قیام ہوا۔نظم نظارت امور عامہ نے (جس کے ناظران دنوں حضرت مفتی محمد صادق صاحب تھے ) کام سنبھالا۔یوم کشمیر کے پروگرام سب جماعتوں اور غیر احمدی معززین کو بھیجے اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا پمفلٹ "کشمیر کے حالات " راتوں رات چھپوا کر بھیجا۔چندہ کے متعلق جماعت میں تحریکات کیں اور کئی دن پورا عملہ اس میں مصروف رہا۔اس کے بعد نظارت امور خارجہ کے تحت (جس کے اس وقت ناظر اور کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری مولوی عبد الرحیم صاحب درد ایم۔اے تھے) کشمیر کمیٹی کے لئے باقاعدہ محکمہ قائم کر دیا گیا۔جس کے زیر انتظام وقتاً فوقتاً مولوی عبدالرحیم صاحب درد سیکرٹری کشمیر کمیٹی- سید زین العابدین ولی اللہ شاہ