تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 445 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 445

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 433 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ " صاحب سالک ، مولوی غلام رسول صاحب مہر اور سید حبیب صاحب جیسے صحافی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔اور تحریک آزادی کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دینے لگے۔ہندی مسلمانوں کی سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ اور کشمیری کانفرنس دونوں کمیٹی کی حمایت کرنے لگیں بلکہ دہلی میں کمیٹی کا اجلاس (۲۲/ نومبر ۱۹۳۱ء) کو مسلم لیگ کے دفتر میں ہی منعقد ہوا۔پیلیٹی کمیٹی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اگست ۱۹۳۱ء کے پہلے ہفتہ میں صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور مولوی عبد المغنی خان صاحب پر مشتمل ایک پبلسٹی کمیٹی تجویز فرمائی۔جس کا کام مسلمانان کشمیر کے حقوق و مطالبات کی حمایت و اشاعت تھا۔اس کمیٹی نے اپنا فرض نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔چنانچہ "کشمیر کے حالات "- "مسلمانان کشمیر اور ڈوگرہ راج" اور "مسئلہ کشمیر اور ہندو مہاسبھائی" جیسی تصانیف اس کی کوشش سے شائع ہو ئیں۔مقدم الذکر کتاب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے قلم سے لکھی گئی تھی۔اور دوسری ملک فضل حسین صاحب احمدی مهاجر جماعت کے مشہور فاضل و محقق کی تحقیق کا نتیجہ تھیں ان کتابوں سے کشمیریوں کے موقف کو بہت تقویت پہنچی جیسا کہ آگے ذکر آئے گا۔اس اہم لٹریچر کی اشاعت کے علاوہ کمیٹی نے وقتا فوقتا مختلف ہینڈ بل A اور ٹریکٹ بھی شائع کئے۔مسلمانان کشمیر کا محضر نامہ (۱۹ / اکتو بر ۱۹۳۱ ء برائے مہاراجہ کشمیرا “MEMORIAL CONTAINING DEMANDS OF KASHMIR MUSLIMS" کے نام سے شائع کیا۔پلیٹی کمیٹی نے مسلم پریس سے رابطہ قائم کرنے کی طرف بھی خاص توجہ دی۔احمدی اخبارات میں سے اخبار "الفضل " ( قادیان) سن رائز" اور "پیغام صلح " لاہور نے نمایاں حصہ لیا۔اور تحریک کو چپہ چپہ تک پھیلانے کا کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا حتی کہ پنجاب کے مشہور صحافی اور سیاسی لیڈر مولوی ظفر علی خان صاحب مدیر "زمیندار" کو لکھنا پڑا کہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب تو اخبار الفضل کے اداریوں سے شیر کشمیر بنے ہیں۔چنانچہ انہوں نے "شیر کشمیر " کے عنوان سے ۱۱/ ستمبر ۱۹۳۲ء کو ایک نظم لکھی جس میں شیخ محمد عبد اللہ صاحب کی زبان سے یہ شعر کہے۔شیر کشمیر بن گیا ہوں میں فقط " الفضل" کے مقالوں سے ER اخبار " سن رائز" ہفت روزہ انگریزی اخبار تھا جس نے کشمیریوں کے مطالبات کی تائید میں نہایت معرکتہ الآراء مضامین شائع کئے۔اس کے ایڈیٹر ان دنوں ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے تھے یہ وہ بلند پایہ اور وقیع اخبار تھا جس کے مضامین دوسرے اخبارات بھی نقل کرتے تھے۔اور لنڈن میں پارلیمنٹ