تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 434
! تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 422 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به حواشی چودھویں صدی " (راولپنڈی) ۲۳/ جولائی ۱۸۹۵ء صفحه ۵-۶- ( تاریخ احمدیت جلد چهارم طبع اول صفحه ۱۳۱۰۱۴۰ "شیر کشمیر " صفحه ۱۳۲۶ از کلیم اختر صاحب شائع کردہ سندھ ساگر اکاڈمی لاہور طبع اول ۱۹۶۳ء اخبار کشمیری لاہور ۲۱ / اپریل ۱۹۲۶ء صفحه ۳-۴- " مسلم کشمیری کانفرنس کا پہلا اجلاس امرتسر میں 1991ء میں ہوا تھا جس میں نواب سر سلیم اللہ مہمان خصوصی تھے اس اجتماع میں شیخ محمد اقبال صاحب ، خواجہ الف دین صاحب وکیل خواجہ احمد دین صاحب ایڈووکیٹ اور دوسرے عمائدین کے ساتھ منشی محمد الدین صاحب فوق بھی شامل تھے اس موقعہ کا نونو روزگار فقیر جلد دوم (مولفه فقیر سید وحید الدین صاحب) میں چھپ چکا ہے۔الفضل ( قادیان) ۲/ ستمبر ۱۹۲۴ء صفحه ۱۲ کالم "فغان کشمیر " ( شائع کردہ کشمیر پیلیٹی بورڈ آل انڈیا مسلم کشمیری کانفرنس لاہور) سرورق صفحه ا تاہم ایضا صفحہ ۱۲۹ " رہنمائے کشمیر "صفحہ ے ے ( از منشی محمد الدین صاحب فوق) مطبوعہ گلزار محمدی پریس لاہورے 141م) ے۔رہنمائے کشمیر "صفحہ ۷۷ از منشی محمد الدین صاحب فوق) یہ کانفرنس ۱۸۸۶ء میں سرسید احمد خاں مرحوم کی کوشش سے قائم ہوئی تھی مختلف اور دور دراز مقامات پر اس کے اجلاس منعقد ہوئے جن میں علامہ شیلی اور حالی نظمیں پڑھتے۔نواب محسن الملک اور خواجہ غلام الثقلین صاحب لیکچر دیتے۔مسلم لیگ کے قیام سے پہلے سیاسی ونیم سیاسی امور میں کانفرنس ہی مسلم قوم کی آواز سمجھی جاتی تھی۔(موج کوثر صفحہ ۸۲) مولفہ شیخ محمد اکرام صاحب بی۔اے۔ان مشہور کا نفرنسوں کے علاوہ ہندوستان میں کشمیری خاندانوں کی اور بھی متعدد انجمنیں قائم تھیں جن کے نام آل انڈیا مسلم کشمیری کا نفرنس کے رسالہ " فغان کشمیر مطبوعہ ۱۹۲۴ء میں مندرج ہیں۔- تاریخ احمدیت جلد چهارم صفحه ۳۱۷ ا اس قصبہ کو آستور بھی کہتے ہیں۔-K آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور احرار اسلام صفحہ ۱۷۰۱۶ لیکچر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ۱۳/ تمبر۱۹۳۱ء بمقام سیالکوٹ والفضل ۲۴ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحه ۹۰۸ الفضل ۱۲۴ جون ۱۹۴۶ء صفحه ۳ کالم ۲ آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور احرار اسلام صفحہ ۷ او الفضل ۲۴ ستمبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۸-۹ معلوم ہوتا ہے کہ ایسے واقعات بڑی کثرت سے ہوتے تھے چنانچہ ملک فضل حسین صاحب نے اپنی کتاب مسلمانان کشمیر اور ڈوگرہ راج صفحہ ۱۳۰ حاشیہ میں اخبار گورو گھنٹال سور جنوری ۱۹۲۷ء صفحہ ۲۳ کے حوالہ سے نواب صاحب مالیر کوٹلہ کی سیر کشمیر میں اسی قسم کا واقعہ لکھا ہے۔-۱۴ رجسٹر کار روائی صدر انجمن احمدیہ ۱۹۱۷ء نمبر ۱ صفحه ۲۰ -۱۵ (مفہوم) الفضل ۲۷ جولائی ۱۹۲۹ء صفحہ ۶ الفضل ۵/ ستمبر ۱۹۲۱ء صفحہ ۱-۲ ۱۷ ولادت قریباً ۶۱۸۳۹-۱۸۹۴ء میں بیعت کی کتاب البریہ " میں ان کا ذکر موجود ہے کے ۱۹۰ء میں قریباً ۶۸ سال کی عمر میں قادیان سے قرآن شریف پڑھا۔مارچ ۱۹۱۴ء میں وفات پائی ناسنور میں مزار ہے ان کے علاوہ ریاست کشمیر کے بعض ممتاز صحابہ کے نام یہ ہیں خواجہ عبد القادر صاحب ڈار ناسنور - خواجہ عبد الرحمان صاحب ڈار پاستور ( دونوں حضرت حاجی عمر ڈار کے فرزند) مولوی حبیب الله لون ناسنور - مولوی غلام محمد صاحب ناستور۔فقیر محمد صاحب بھٹی ناسنور - راجہ عطاء اللہ خان صاحب یا ڈی پورہ راجہ غلام حیدر صاحب یاری پوره (یہ دونوں بزرگ کشمیر کے اولین صحابہ ہیں) حضرت خلیفہ نور الدین صاحب جموں۔مولوی غلام احمد صاحب لون تا سنور شیخ فتح محمد صاحب ڈپٹی انسپکٹر کشتواڑ ( ضلع اور ھم پورہ) میاں محمد دین صاحب تاجر جموں۔میر حبیب اللہ