تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 423
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 411 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ نہ ایک دن مرنا ہی ہوتا ہے پس اس بات سے ایمان والے نہیں ڈرا کرتے کہ ہم آج مرتے ہیں کہ کل ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہم اپنی زندگی کو قوم پر نار کر رہے ہیں اور سسک سسک کر غلاموں کی طرح نہیں مرتے مجھے پوری امید ہے کہ اس قربانی سے ہمار ا وہ مقصد پورا ہو گا۔جس کے لئے ہم نے تحریک کو شروع کر رکھا ہے۔اس تقریر کے بعد قیدی چند لمحات کے لئے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔پھر غلام نبی صاحب گلکار نے جرات سے کام لے کر بتا یا دوستو مرنا دنیا میں ایک ہی دفعہ ہے بزدلوں کی طرح زندہ رہنے سے دلاور کی موت مرنا بہترین ہے میں سب سے پہلے اندر جا رہا ہوں آپ میرے پیچھے آئیں (سوانح حیات شیخ محمد عبد اللہ صاحب صفحہ ۵۶) چنانچہ اس نو عمر قومی جرنیل کی ہمت پر آفرین کہتے ہوئے اس وقت شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے فرمایا۔تم پر فخر کرتا ہوں- مسلمانان سرینگر کے پر امن نہتے اور بے بس مجمع کو ریاستی حکام ہندو پریس کا ظالمانہ رویہ نے گولیوں کا نشانہ بنا کر جہاں اپنی وحشت و درندگی اور مسلمانان ریاست کی بے کسی و مظلومی انتہا تک پہنچادی وہاں ہندو پریس نے نہ صرف اس قابل نفرین فعل کی تائید و حمایت کی بلکہ ریاستی حکام کو اور زیادہ ظلم و ستم کی تحریک کر کے اشتعال انگیزی کی حد کر دی۔چنانچہ اخبار " ماپ لاہور نے لکھا ”باغیوں کو ایسی عبرتناک سزائیں دی جائیں جو دوسروں کے لئے تازیانہ عبرت ہوں“ (ملاپ ۱۷/ جولائی ۱۹۳۱ء) " حکومت نے گرفتاریوں کے سلسلہ میں اس قدر فراخدلی سے کیوں کام لیا ہے سات ہزار حملہ آوروں میں سے صرف دو سو مسلمانوں کو پکڑا جانا کوئی خاص اثر پیدا نہیں کر سکتا چاہئے تو یہ تھا کہ حکومت ان سات ہزار مسلمانوں کو گرفتار کر لیتی اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا جاتا۔مگر ایسا نہیں کیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ۶۸ سو مسلمان قانون کے ڈنڈے کی زد سے بچ جائیں گے اور مستقبل میں اس قسم کی جرات کر سکیں گے۔(ملاپ ۱۷/ جولائی ۱۹۳۱ء) اگلے روز اخبار پر تاپ لاہور نے (۱۸ / جولائی ۱۹۳۱ء ) اس کی تائید مزید میں لکھا " سخت ہاتھ کے ساتھ فسادات کو کچل کر رکھ دینے کی ضرورت ہے " مسلمانان ریاست کشمیر نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا وائسرائے ہند کے نام تار ۱۳ / جولائی ہی کے خونچکاں واقعہ کی اطلاع اسی روز حضور کو پہنچادی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ فورا یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیں چنانچہ حضور نے اسی دن یعنی ۱۳ / جولائی کو ہز ایکسی لینسی وائسرائے ہند لارڈ ولنگڈن) کو مندرجہ ذیل تار بھجوایا "یور ایکسی لینسی کشمیر میں مسلمانوں کی خستہ حالی سے ناواقف نہیں۔تازہ ترین