تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 417
تاریخ احمدیت جلد ۵ 405 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ۱۳ جولائی ۱۹۳۱ء کا المناک دن اور مسلمانان سرینگر کو عبد القدیر خان صاحب کے مقدمہ میں طبعاد لچپسی اور ہمدردی تھی اور وہ کثیر سری نگر کے مسلمانوں پر گولیوں کی بوچھاڑ تعداد میں مقدمہ کی کارروائی دیکھنے کے لئے عدالت میں جایا کرتے تھے۔مگر اس دوران میں حکومت نے اس مقدمہ کی سماعت معمولی عدالت سے منتقل کر کے ہری پربت کے جیل خانہ میں شروع کر دی۔مسلمانوں کو اس تبدیلی کا علم ہوا تو وہ یہ محسوس کر کے کہ شائد مقدمہ نے کوئی نئی صورت اختیار کرلی ہے ۱۳ / جولائی ۱۹۳۱ء کو مقدمہ کی سماعت کے وقت ہزاروں کی تعداد میں ہری پربت (سنٹرل جیل سرینگر) میں پہنچ گئے۔تحریک کشمیر کے ایک رہنما مولوی محمد سعید صاحب سابق ایڈیٹر ” ہمد رد " سرینگر کا بیان ہے کہ کئی ایک پیشیوں کے بعد ۱۳/ جولائی ۱۹۳۱ء کو پیشی تھی اس سے قبل دو دن شہر میں بعض چالاک لوگوں نے مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لئے عوام اور غیر تعلیم یافتہ مسلمانوں میں اس افواہ کی شہرت کرا دی کہ عبد القدیر صاحب کو بغاوت کے الزام میں پھانسی ہوگی۔یا کم از کم جس دوام کی سزادی جائے گی۔اس افواہ نے شہر میں سراسیمگی پھیلادی امسال کی طرح ۱۹۳۱ء کی تاریخ ۱۳/ جولائی کو بھی سوموار کا دن تھا اتوار ۱۲ جولائی کی شام کے بعد مائسمہ کی مسجد میں جلسہ ہوا شیخ محمد عبد اللہ صاحب شیر کشمیر اور مولوی عبدالرحیم صاحب نے عوام کو یقین دلایا کہ مولانا عبد القدیر کے مقدمہ کی تحقیقات ابھی جاری ہے افواہوں پر اعتبار نہیں۔حکومت نے اگر کھلی عدالت کی بجائے بند کمرے میں تحقیقات شروع کی ہے تو اس سے خطرہ کا امکان نہیں اور چونکہ اب جیل میں سماعت ہو رہی ہے اس لئے عوام جو کھلی عدالت میں روئداد سننے جاتے تھے جیل کی طرف ہر گز نہ جائیں۔کیونکہ وہاں جانا بے سود ہے۔عوام چونکہ دوسری افواہ سے اس قدر متاثر ہو چکے تھے کہ نوجوان رہنماؤں کی ہدایت انہیں اپیل نہ کر سکی۔اس لئے دوسرے روز جوق در جوق لوگ سنٹرل جیل اور جیل سے ملحقہ باغات میں جمع ہو گئے۔AL المختصر اسی دوران میں سیشن جج ، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور دوسرے افسر بھی وہاں آگئے۔مسٹر پریم ناتھ بزاز کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً سب افسر ہندو تھے۔مسلمان ان افسروں کے ساتھ ہی جیل کے بیرونی احاطہ میں گھس گئے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اس موقعہ پر کسی افسر نے بھی یہ اعلان نہیں کیا کہ یہ اجتماع غیر قانونی ہے اور یہ کہ لوگوں کو منتشر ہو جانا چاہئے اور یہ کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ان پر فائرنگ کیا جائے گا۔اور بغیر کسی تنبیہ کے اس اجتماع میں سے ہجوم کے لیڈروں کو گر فتار کر لیا گیا۔مسلمان اس بات کو دیکھ کر نہایت گھبرائے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے لیڈروں کو فور آرہا