تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 403 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 403

399 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیه بھی آزاد کرا ئیں جن کی غلامی کا سبب وہ خود ہوئے ہیں میں سمجھتا ہوں ہر ایک دیانتدار آدمی اس معالمہ میں ہمارے ساتھ ہو گا۔بلکہ میرا تو یہ خیال ہے کہ خود مہاراجہ سر ہری سنگھ صاحب بھی اگر ان کے سامنے سب حالات رکھے جائیں تو اس ظلم کی جو ان کے نام سے کیا جا رہا ہے اجازت نہ دیں گے اور مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق دے کر اس فیڈریشن کے اصل کو مضبوط کریں گے جس کی وہ تائید کر رہے ہیں۔آزادی کشمیر سے متعلق تیرا مضمون حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے اس دوسرے مضمون پر مختلف طور پر حاشیہ آرائی ہوتی رہی۔- بعض لوگوں نے کشمیر کے ساتھ دلچسپی پیدا کرنے کے لئے یوم کشمیر منانے کے فیصلے کئے لیکن بد قسمتی سے کسی نظام کے تحت نہیں پشاور نے الگ تاریخ مقرر کر دی کا پور نے الگ اور لاہو ر نے الگ تب حضور نے تیسرا مضمون لکھا جو الفضل مورخہ ۱۶ / جولائی ۱۹۳۱ء میں اور انقلاب ۱۸/ جولائی ۱۹۳۱ء میں شائع ہوا اور اس میں آپ نے بتایا کہ یہ کام بغیر نظام کے ہونے والا نہیں انگریز کہہ چکا ہے کہ میں ریاستوں کے معاملہ میں دخل نہیں دوں گا۔اور ہندو اور مسلمان ان کی اس پالیسی کو پسند کر چکے ہیں اس لئے جب تک کل ہند بنیاد پر کوئی تحریک جاری نہ کی گئی اور ان مشکلات کو سوچ کر کوئی قدم نہ اٹھایا گیا۔اس وقت تک یہ سوال کبھی بھی حل نہیں ہو گا۔پس میں تحریک کرتا ہوں کہ ایک ایسے مقام پر جہاں کشمیر کے لوگ بھی آسکیں کل ہند مسلم اجتماع کیا جائے چنانچہ حضور کے الفاظ یہ تھے۔میں تمام ان ذمہ دار اشخاص کو جو یا تو نسلاً کشمیری ہیں یا مسئلہ کشمیر سے ہمدردی رکھتے ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس کام کے کرنے کے لئے ایک نظام تجویز کریں کوئی لوکل کمیٹی خواہ کتنے ہی بااثر آدمیوں پر مشتمل ہو اس کام کو نہیں کر سکتی۔جب تک کہ ایک آل انڈیا کانفرنس مسلمانوں کی اس مسئلہ پر غور نہ کرلے گی۔اور اس کے لئے ایک متفقہ پروگرام تجویز نہ کرے گی اس سوال کا حل ناممکن ہے۔ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ یہ سوال براہ راست برطانوی ہند کے باشندوں سے تعلق نہیں رکھتا اور ہمارے یہاں کے مظاہرے ریاست کشمیر پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتے۔دوسرے باشندگان کشمیر ابھی تعلیم میں بہت پیچھے ہیں اور بوجہ اس کے کہ ان کو کسی قسم کی بھی آزادی حاصل نہیں عوام الناس میں با قاعدہ جد وجہد کی بھی ہمت کم سے تیسرے ریاستوں میں اس طرح کی آئینی حکومت نہیں ہوتی جس طرح کی حکومت برطانوی علاقہ میں ہے نہ ان کا کوئی قانون مقرر ہے نہ ان کا کوئی ریکارڈ ہوتا ہے وہ جس طرح چاہتی ہے کرتی ہے اور