تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 378 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 378

374 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کشمیر میں تعلیم بالغاں کی بنیاد کشمیر میں شوپیاں سے چند میل کے فاصلہ پر تحصیل کو لگام میں احمدیوں کا مشہور گاؤں ناسنور ہے جہاں ۱۹۰۹ء کے جلسے میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بھی شرکت فرمائی اور احمدیوں اور غیر احمدیوں سے خطاب کرتے ہوئے اہم نصائح فرما ئیں۔ناسنور میں ڈار قوم کا ایک معزز خاندان آباد تھا۔جو سارے علاقہ میں بڑی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور زمینداری اور تجارت دونوں لحاظ سے وہ آسودہ حال تھا اس خاندان کے ایک بزرگ حضرت حاجی عمر ڈار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدیم صحابہ میں سے تھے۔انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی اس نصیحت سے متاثر ہو کر کہ ریاست میں تعلیم عام کرنی چاہئے۔۱۹۰۹ء سے کشمیر میں تعلیم بالغان کی بنیاد رکھی چنانچہ منشی محمد الدین صاحب فوق لکھتے ہیں:۔” خواجہ محمد عمر ڈار احمد کی ہونے کے بعد سب سے پہلے حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔پھر انہوں نے قریباً پچاس سال کی عمر میں کچھ لکھنا پڑھنا سیکھا۔اور کشمیر میں تعلیم بالغان کی بنیاد قائم کی جس کے کھنڈروں پر آج ہماری ریاست کا محکمہ تعلیم ایک عالی شان عمارت کھڑی کرنے میں مصروف نظر آ رہا ہے مرزا صاحب۔کے عقائد و دعاوی سے کسی کو مخالفت ہو یا موافقت اور خواجہ عمر ڈار کی قبول احمدیت اچھی ہو یا بری لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی احمدیت نے اس گاؤں میں ایک بیداری سی پیدا کر دی اور اس بیداری نے وہ علمی انقلاب پیدا کر دیا جس کی بدولت آج ناسنور میں ایک پرائمری سکول کے علاوہ ایک زنانہ سکول بھی قائم ہے اور چھ مولوی فاضل کا امتحان پاس ہونے کے علاوہ متعدد انگریزی خوان نوجوان وہاں موجود ہیں جو مختلف محکموں میں اچھے اچھے عہدوں پر بر سر روزگار ہیں "۔I'm راجوری کے مسلمانوں کی تنظیم ۱۹۱۴ء میں ایک احمدی عالم مولوی عبدالرحمن صاحب نساکن اندوره اسلام آباد (والد ڈاکٹر نظیر الاسلام صاحب) نے راجوری میں مسلمانوں کو منظم کرنے کی جدوجہد شروع کی اس بزرگ کو قرآن مجید سے عشق تھا۔لوگ ان کو امام مہدی کہتے تھے۔کیونکہ آپ جب قرآن کریم تلاوت فرماتے تھے تو لوگ وجد میں آجاتے تھے مولوی عبدالرحمن صاحب کی تقریروں سے علاقہ میں مسلمانوں میں ایسا اتحاد پیدا ہو گیا اور ہندوؤں نے نئی ابھرنے والی تنظیم کو اپنے لئے خطرہ سمجھ کر ہندو مسلم فساد کھڑا کر دیا۔پولیس نے گولیاں چلا ئیں۔مولوی عبدالرحمن صاحب کی جائیداد ضبط کرلی گئی۔اور انہیں کٹک میں پناہ گزیں ہونا پڑا۔ایک عرصہ کے بعد دوبارہ اپنے گاؤں میں آگئے۔۱۸ / جون ۱۹۴۴ء کو انتقال فرمایا۔