تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 377 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 377

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 373 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ تم لوگ بوجھ اٹھانے میں بہت مشاق ہو پھر اس طرح کیوں کراہ رہے ہو اس نے کہا مشاق رہی ہوتے ہیں جن کا یہ پیشہ ہو میں تو برات کے ساتھ جارہا تھا کہ پکڑ کر یہاں بھیج دیا گیاوہ ایک معزز زمیندار تھا جس نے کبھی یہ کام نہیں کیا تھا میں نے اسے کہا میں ٹرنک خود اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا پہلے گاؤں میں ہی چکر مجھے کتنی رقم خرچ کرنی پڑے میں وہاں سے مزدور لیکر تمہیں چھوڑ دوں گا۔چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا یہ ایسی درد ناک بات تھی جس سے میں بہت ہی متاثر ہوا اور میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ کشمیر کے لوگوں کی آزادی کے لئے کوشش کرنی چاہئے"۔پھر فرماتے ہیں اس سے بھی زیادہ عجیب واقعہ مجھے ایک افسر نے جو پونچھ میں وزارت کے عہدہ پر فائز رہا ہے تایا۔۔۔کہ ایک دفعہ مجھے مزدوروں کی ضرورت تھی میں نے حاکم مجاز کو اس کے متعلق مخط لکھا اس نے کچھ مزدور بھیجے جن کے متعلق مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک بھی مزدور نہ تھا بلکہ سب کے سب براتی تھے جن میں دولہا بھی شامل تھا ذرا غور کرو یہ کس قدر دردناک واقعہ ہے ان لوگوں کے لئے کھانے پکے ہوئے ہونگے اور لڑکی والے ان کی راہ دیکھ رہے ہوں گے دولہن دولہا کا انتظار کر رہی ہو گی۔اس واقعہ سے میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے"۔غرضیکہ اس نوعیت کے تلخ واقعات کی یاد لے کر آپ واپس قادیان تشریف لائے اور پہلا قدم یہ اٹھایا کہ اگلے سال جب تمبر ۱۹۱۰ء سے مدرسہ احمدیہ کے افسر بنے تو آپ نے کشمیری طلبہ کو قادیان میں تعلیم دلانے کی طرف خاص توجہ شروع کر دی۔اور جب مارچ ۱۹۱۴ء میں مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ نے کشمیری طلباء کے لئے خاص وظائف مقرر فرما دیے اور ریاست کے نونہالوں کی کثیر تعداد قادیان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آنے لگی جس کا سلسلہ ۱۹۴۷ء تک جاری رہا۔حضور کو اہل کشمیر کا کس درجہ خیال تھا اس کا اندازہ صدرانجمن احمد یہ قادیان کے رجسٹر متعلقہ سال ۱۹۱۷ء سے بخوبی لگ سکتا ہے اس رجسٹر میں لکھا ہے کہ :- درخواست مسمی عبد الجبار مدرس رشی نگر ڈاک خانہ شوپیاں ملک کشمیر کہ اس کے بھائی عبد الرزاق کو مدرسہ احمدیہ میں داخل فرمایا جائے۔معہ ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح کہ اب کشمیری لڑکے مدرسہ احمدیہ میں نہیں رہے اس لئے اس کا انتظام کر کے بلائیں۔معہ رپورٹ سیکرٹری کہ لڑکے کو لکھ دیا گیا ہے کہ وہ بہت جلد آجاوے مناسب وظیفہ مقرر کیا جاوے۔۱۹۲۹ء میں کشمیر کے ایک غیر احمدی پیر حضور کی ملاقات کے لئے تشریف لائے حضور نے انہیں فرمایا کہ آپ کشمیر سے ذہین طلبہ بھجوائیں ہم ان کی تعلیم کا زمہ لیتے ہیں۔D "