تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 373 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 373

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 369 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ دو سرا باب (فصل اول) تحریک آزادی کشمیر کے مختلف ابتدائی دور مسلمانان کشمیر پر مظالم کے خونچکاں واقعات حضرت امام جماعت احمدیہ کے پر زور احتجاجی مضامین اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام- (از ستمبر ۱۸۴ء تا ۲۵ جولائی ۱۹۳۱) تحریک آزادی کا پہلا دور از ۱۸۴ ۱۸۲) ۱۸۹۲ء تا ۱۹۰۸ء) گزشتہ باب میں ذکر آچکا ہے کہ حضرت حکیم مولانا پنجاب کے مسلم پریس کا احتجاج نور الدین صاحب کو ستمبر ۱۸۹۲ء میں مہاراجہ پر تاپ سنگھ صاحب کے حکم پر ریاست کشمیر چھوڑنا پڑی۔آپ کے بعد ایک سوچی سمجھی سکیم کے مطابق مسلمان ملازمین کو بر طرف کیا جانے لگا۔چنانچہ راولپنڈی کے اخبار ” چودھویں صدی " نے ۲۳ / جولائی ۱۸۹۵ء کو پہلی بار ڈوگرہ حکومت کی در پردہ سازش کا انکشاف کرتے ہوئے لکھا:۔"جموں اور کشمیر کی حکومت میں مہاراجہ گلاب سنگھ کا زمانہ تو ایک نہایت پر آشوب زمانہ تھا۔ان کے زمانہ حکومت سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔البتہ مہاراجہ رنبیر سنگھ صاحب کا عہد حکومت ایک پر امن زمانہ تھا۔اور طرز حکومت کی ایک مستقل بناء پڑ گئی تھی۔اور ہر ایک قسم کی ترقیاں ہوئی تھیں جو سب سے بڑی خوبی مہاراجہ رنبیر سنگھ صاحب کی حکومت میں تھی وہ یہ تھی کہ وہ اپنی رعایا کے ہر ایک فرقہ کے ساتھ ان کے حقوق کی مقدور کے مطابق سلوک کرنے کی طرف مائل رہتے تھے اپنی مسلمان رعایا سے بھی ایسی ہی الفت رکھتے تھے جیسی ہندو رعایا سے اور اگر چہ ان کے نزدیک ہندو اور مسلمانوں میں ان کی رعایا ہونے کے اعتبار سے کوئی فرق نہ تھا لیکن ایسا معلوم ہو تا تھا کہ وہ مسلمانوں کو اپنی ملازمت میں رکھنا زیادہ پسند کرتے تھے اس سبب سے اچھے اچھے اور جلیل القدر عہدوں پر اکثر مسلمان ملازم دکھائی دیتے تھے اور ادنی ملازمت میں بھی بے شمار مسلمان تھے اس وقت ہمارے پاس کوئی فہرست تو اس زمانہ کے