تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 335 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 335

تاریخ احمدیت - جلد ۵ 331 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ریسرچ کو ایک عمدہ خلاصہ اور بہترین نچوڑ " مکمل تاریخ کشمیر جلد اول کی شکل میں شائع کر دیا اور اس میں ابتدائے ظہور آدم سے لے کر ۱۳۳۴ء تک کے تاریخ وار واقعات پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے قدیم فرمانروایان کشمیر کے حالات کا ایک اہم خاکہ پیش کیا ہے۔مورخ کشمیر منشی محمد الدین صاحب فوق کی تحقیق کا سادہ لفظوں میں خلاصہ یہ ہے کہ زمانہ قدیم میں کچھ عرصہ تک یہ خط کشمیر پانی کے نیچے دبا رہا۔پانی ہٹ جانے یا نکالے جانے کے بعد یہ زمین آباد ہونی شروع ہوئی اور اس کی آبادی پر پانچ ہزار برس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے قدیم ایام میں یہاں مستقل آبادی نہ تھی۔کیونکہ کثرت سے برفباری سے موسم سرما میں یہاں قیام نہایت دشوار بلکہ ناممکن تھا خصوصاً جبکہ سخت سردی سے بچاؤ کے ضروری سامان ناپید تھے اور لوازمات زندگی کے وسائل محدود تھے۔ابتداء میں کشمیر تالاب کی صورت میں ایک وسیع میدان تھا جس میں جابجا چشمے اور دریا موجود تھے۔موجودہ دریا بہت ( دو تستا) جسے جہلم کہتے ہیں پہلے بھی اس طرح کشمیر اور کانمان کا پانی لے کر پنجاب کو سیراب کرتا تھا اس وقت یہ موسم بہار کی چراگاہوں کا کام دیتا تھا۔اوائل موسم بہار میں بھمبر راجوری کانان پکھلی وغیرہ قرب و جوار کے باشندے اور چرواہے بھیڑ بکریاں لے کر یہاں آجاتے اور ان کے مرغزاروں کی زرخیزی اور شادابی سے متمتع ہو کر جاڑے سے پہلے ہی اپنے دیس کو لوٹ جاتے تھے۔یہ وہ زمانہ تھا۔جبکہ لوگ تہذیب سے بالکل نا آشناء حشیانہ زندگی بسر کرتے تھے۔ان کا گزارہ زیادہ تر مال مویشی اور شکار پر تھا۔پتھر کی کلہاڑیاں اور ہتھیار ان کے جنگی اسلحہ تھے آخر دور میں تیرو ترکش کا استعمال بھی کرنے لگے۔اور زراعت بھی انہوں نے اختیار کی لیکن مستقل رہائش کے پابند نہ تھے جہاں زمین نظر آئی وہیں کاشتکاری شروع کر دی پھر نقل مکانی کر کے کسی اور طرف چل دیئے۔دریا دید کے ذریعہ یہاں ابتدائی آبادی شروع ہوئی۔کچھ عرصہ بعد مسیح سے تین ہزار آٹھ سو نواسی سال پیشتر طوفان نوح کا حادثہ پیش آیا جس نے دریا دیو کی قوم کو بالکل نیست و نابود کر دیا۔حضرت مسیح سے دو ہزار بیالیس سال پہلے راجہ سند رسین کے عہد میں کشمیر کا شہر سند مت نگر بھی ( یہ شہر اس مقام پر آباد تھا جہاں اب جھیل ڈلر ہے) غرق ہو گیا اس طغیانی سے کامراج کا ایک بڑا حصہ زیر آب آگیا۔حضرت مسیح سے باره سو بیاسی سال پہلے راجہ نریندر کے عہد حکومت میں پانی نکلوا کر کامراج میں دوبارہ آبادی کی بنیاد پڑی کہتے ہیں کہ کشمیر کی اس جدید آبادی کا سلسلہ کشیپ رشی کے زمانے سے شروع ہوتا ہے۔جس نے مختلف لوگوں کو یہاں لا کر آباد کر دیا۔دریا دیو کے بعد جب کشیپ رشی نے کشمیر از سر نو آباد کیا اس وقت ہر شخص اپنے اپنے گھر کا خود مختار اور حاکم تھا۔اس حالت کے بعد ایک قبائلی نظام نے جنم لیا۔اور اس وقت سے شخصی طرز حکومت کی ابتدا ہوئی اور پورن کرن (راجہ جموں) کا لڑکا دیا کرن کشمیر کاسب