تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 334
تاریخ احمدیت جلد ۵ 330 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیه ہے۔" ان ہزارہا جلدوں میں جو ہندوؤں نے اپنی تین ہزار سال کے تمدن میں تصنیف کی ہیں، ایک تاریخی واقعہ بھی صحت کے ساتھ درج نہیں ہوا"۔نامور و نیسنٹ اے سمتھ ایم۔اے "راج ترنگنی " کی نسبت مندرجہ ذیل رائے کا اظہار کرتے ہیں۔"کشمیر کی تاریخ بارھویں صدی میں لکھی گئی اور تمام سنسکرت ادبیات میں صرف ایک یہی کتاب ہے جو باقاعدہ تاریخ کے فن میں تحریر ہوئی اس میں کثرت سے ایسی بے سر و پا قدیم روایتیں پائی جاتی ہیں جو سخت احتیاط کے بعد کام میں لائے جانے کے قابل ہوں گی"۔مغربی محققین کے یہ نظریات متعدد ہندو فاضلوں اور ودوانوں کو بھی مسلم ہیں۔چنانچہ بھائی پر مانند صاحب مشهور مہاسبھائی لیڈر کا اقرار ہے کہ بد قسمتی سے ہمارے بزرگوں کو اپنے حالات درستی سے قلم بند کرنے کا شوق نہ تھا اور جو کچھ حالات لکھے ہوئے ملتے ہیں وہ شاعرانہ مبالغہ سے بھرے ہوئے م - ہیں۔جن کی امداد سے صحیح واقعات پر پہنچنا محال ہے "۔اسی طرح منشی ہیرا لال صاحب معترف ہیں کہ افسوس ہے ہندوستان کی کوئی پرانی تاریخ نہیں لمتی اس کے قدیمی حالات پر ایسا گھٹاٹوپ بادل چھا گیا ہے۔کہ جس کا پتہ لگنا قریباً نا ممکن ہو گیا ہے۔اسی طرح بابو رو میش چند روت نے ہندو و قائع نگاروں پر تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے لکھا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے متقدمین کی ناکامیابی زیادہ تر ان کے غلط راستہ پر چلنے کی وجہ سے تھی۔انہوں نے اپنی تمام کوشش ہندوستان کے مختلف حصوں اور سلطنت کے راجاؤں کی ایک فہرست بنانے میں صرف کر دی لیکن ہمارا یقین ہے کہ یہ فہرستیں قریباً غلط ہیں"۔بابور و میش چند روت نے ہندو تاریخ دانی کے جس پہلو کی نشاندہی کی ہے وہ " راج ترنگنی " اور ر نتاگر دونوں میں موجود ہے جو عام طور پر قدیم تاریخ کشمیر کا سر چشمہ اور منبع قرار دی گئی ہیں۔خصوصاً " راج ترنگنی" کے متعلق تو اس کے غالی مداحوں کو بھی (جو اسے مبالغہ آمیزی سے مصون و محفوظ سمجھتے ہیں) اعتراف ہے کہ کلہن کی تحریر میں دھندلا پن ہے۔اس نے نادر الفاظ استعمال کئے ہیں یا شاعرانہ گڑ بڑ ڈال دی ہے اور اس کے بیانات کی طرز تحریر شاعرانہ ڈھنگ پر ہے یہ چیز ترنگ نمبر ۸ میں بہت بڑھی ہوئی ہے۔یہاں تک کہ وہ یہ کہنے پر بھی مجبور ہیں کہ "فوق الفطرت عصر جادو اور منتر و غیرہ کا بھی اس کی تاریخ میں بہت کچھ دخل ہے"۔(دیباچہ مکمل راج ترنگنی "صفحہ ۱۴۱-۱۴۳) ان حالات میں عہد حاضر کے ایک مورخ کے لئے اصل واقعات کی تہہ تک پہنچنا کتنا مشکل کام ہے اس پر کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔تاہم منشی محمد الدین صاحب فوق مورخ کشمیر کی محنت و کاوش کی داد دینا پڑتی ہے کہ انہوں نے "راج ترنگنی " اور "ر تاگر " اور دوسرے قدیم لٹریچر کی ورق گردانی کر کے اپنی