تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 330
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 326 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ حصہ دوم - پہلاباب (فصل اول) ریاست جموں و کشمیر کے جغرافیائی حالات تمدنی و مذہبی تاریخ اور تحریک آزادی کا پس منظر ریاست کے جغرافیائی حالات محل و قوع و رقبه ریاست جموں و کشمیر (جس کے قریباً چالیس لاکھ مظلوم اور ستم رسیدہ مسلمان باشندے جنگ آزادی کے ایک فیصلہ کن اور نازک مرحلہ میں داخل ہو چکے ہیں) ایک عرصہ سے عالمی سیاست کی توجہ کا خصوصی مرکز بن چکی ہے۔اس ریاست کے شمال میں چین اور روس، جنوب مغرب میں مغربی پاکستان، مشرق میں تبت اور جنوب مشرق میں بھارت ہے۔ریاست کا رقبہ تقریباً چوراسی ہزار مربع میل ہے۔D - جو نتیجیم ، سوئٹزرلینڈ، بولیویا، البانیہ ، ڈنمارک اور فلسطین کے مجموعی رقبہ کے لگ بھگ اور بلغاریہ، پرتگال چیکوسلواکیہ ، آئس لینڈ لائبیریا ملایا نیپال اور یونان جیسے ممالک سے ہزاروں میل زیادہ ہے۔کشمیر کی مشہور عالم اصل وادی جو قدرت کے دلکش مناظر کی کشمیر کی خوبصورت دادی وجہ سے "جنت نظیر " کے نام سے موسوم ہوتی ہے۔تقریباً اتی میل لمبی اور ۳۰ میل چوڑی ہے۔اس وادی کے طول میں سے دریائے جہلم گزرتا ہے۔دادی کی زمین نہایت ذرخیز ہے اور جابجا باغات سے مزین نظر آتی ہے۔اس وادی کے ایک حصہ میں وہ مشہور علاقہ ہے جس میں زعفران پیدا ہو تا ہے۔وادی کے چاروں طرف پہاڑوں کا ایک وسیع سلسلہ ہے جو قدرتی جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے مگر اس میں دیسات اور آبادیوں کے آس پاس زراعت بھی ہوتی ہے۔قدرتی نالے اور چشمے کشمیر کی وادی اور پہاڑ کے حصہ ہر دو کی نمایاں خصوصیات ہیں۔لوگوں کا پیشہ عموماً زراعت اور گلہ بانی ہے مگر شہروں اور قصبوں میں صنعت و حرفت بھی اپنے کمال تک پہنچی ہوئی ہے۔اور کشمیری لوگ اس شعبہ کے ساتھ خاص لگاؤ اور دلچسپی رکھتے ہیں۔اون کا کام ریشم کا کام لکڑی کا کام تمام صنعتوں میں سے نمایاں ہے۔اور کشمیر کا یہ مال عرصہ سے بیرونی ممالک میں بڑی قدر کی نگاہ سے