تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 301
تاریخ احمدیت جلد ۵ 297 خلافت ثانیہ کا اٹھار ہواں سال (The Message) کے شعبے قائم ہیں ۱۹۵۷ء میں جماعت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر ایک سہ منزلہ عمارت بھی خرید لی گئی جس کے صحن میں مسجد بنانے کی تجویز ہے۔نیگومبو میں اس مشن کی دوسری شاخ ہے جہاں وسیع باغ میں احمد یہ مسجد ، بچوں کا سکول اور لائبریری ہے پالمنی میں تیسری شاخ ہے۔جیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے۔سیلون میں جماعت کا دیرینہ اخبار دی میسیج ہے جو ایک مدت تک بند رہنے کے بعد ۱۹۵۳ء میں دوبارہ انگریزی اور تامل میں جاری کیا گیا ۱۹۵۶ء میں اس کا تیسرا ایڈیشن سیلون کی سرکاری زبان سہیلیز Sinhaleese) میں بھی چھپنے لگا۔اور اب یہ واحد اسلامی اخبار ہے جو بیک وقت ملک میں بولی یا سمجھی جانے والی تین زبانوں (انگریزی تامل اور منیلین میں شائع ہو رہا ہے۔اور علمی طبقہ میں خاص شہرت رکھتا ہے۔سیلون - لنکا کے علاوہ جنوبی ہند ملائیشیا اور برما میں بھی اس کے ذریعہ سے پیغام حق پہنچ رہا ہے۔احمد یہ مشن سیلون نے چند سال میں ہزاروں روپے کا لٹریچر جنوبی ہند کی مختلف زبانوں میں تیار کر لیا ہے جو سیلون کے علاوہ جنوبی ہند ملایا اور بورنیو د غیرہ بھی بھیجا جاتا ہے۔مطبوعات کی بنیاد مکرم مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر نے رکھی اور اس کی مالی امداد سیلون کے مخلص احمدی جناب ڈاکٹر سلیمان صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ نے قبول کی۔مشن کی طرف سے اب تک اسلامی اصول کی فلاسفی "۔لیکچر لاہور " " نظام نو" - "ہمار ا رسول " " تحفه شهزاده ویلیز " " احادیث النبی""۔" قرآن مجید کی دو سورتیں " - " صداقت مسیح موعود " " وفات عیسی " اور " اجرائے نبوت وغیرہ رسائل وکتب شائع ہو چکی ہیں۔ان کے علاوہ کثیر تعداد میں ٹریکٹ بھی اسلامی قاعدہ " (سہیلیز) اور اسلام کا خلاصہ" تامل و انگریزی بھی ادارہ کی مطبوعات میں سے ہیں۔"۔اس مشن نے سرکاری زبان سیلیر میں پیشں بار اسلامی لٹریچر شائع کر کے حضرت امیر المومنین المصلح الموعود ایده الله الورود کی ایک خواب ہی ر 15 کمدی جو حضور نے درج ذیل الفاظ میں قبل از وقت شائع فرما دی تھی۔" میں نے رویا میں دیکھا کہ کوئی تحریر میرے سامنے پیش کی گئی ہے۔اور اس میں یہ ذکر ہے کہ ہمارے سلسلہ کا لٹریچر سنہالیز زبان میں بھی شائع ہونا شروع ہو گیا ہے۔اور اس کے نتائج اچھے نکلیں گے۔میں خواب میں کہتا ہوں کہ سنگھالیز زبان تو ہے یہ سنہا لیز کیوں لکھا ہے پھر میں سوچتا ہوں کہ سنہالیز زبان کون سی ہے تو میرا ذ ہن اس طرف جاتا ہے کہ شاید یہ ملائی زبان کی کوئی قسم ہے اس کے بعد آنکھ کھل گئی"۔