تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 287 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 287

تاریخ احمدیت - 283 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال یہی ان کی بہترین یادگار ہوتی ہے کہ اس مقصد کو پورا کر دیا جائے جس کے لئے وہ دنیا میں مبعوث ہوئے "۔اور فرمایا۔اس جوبلی کی یادگار کا اس کو بھی حصہ ہی قرار دے لو کہ تمام بالغ احمدی خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں کوشش تو یہ کریں کہ ہمیشہ تجد پڑھیں لیکن اگر ہمیشہ اس پر عمل نہیں کر سکتے تو جمعہ کی رات مخصوص کر لیں اور سب اللہ تعالی کے حضور متفقہ طور پر دعائیں مانگیں حضور نے ۱۲ جون ۱۹۳۱ء کو جمعہ کی رات میں التزام سے تہجد پڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار فرمایا کہ اگر جماعت یہ نیکی بطور یادگار پیدا کرے تو عرش الہی ہل جائے گا اور ” دہریت کی رو جو اس وقت دنیا میں جاری ہے رک جائے گی اور بے دینی و الحاد کو شکست ہو جائے گی اور اللہ تعالٰی کی رحمتوں کا نزول شروع ہو جائے گا۔انجمن شباب المسلمین بٹالہ کا جلسہ بٹالہ کی انجمن شباب المسلمین نے جماعت احمدیہ کے خلاف ایک محاذ قائم کر رکھا تھا۔جون ۱۹۳۱ء کو اس کے پلیٹ فارم پر جناب سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے ایک روایت کے مطابق یہاں تک کہہ ڈالا کہ احمدیوں کے مقابل پر ہمیں کسی کوشش کی ضرورت نہیں سیاسی طور پر مسلمان کانگریس کی مدد کریں۔احمدی ہمیشہ ہی خوشامدی چلے آئے ہیں۔چنانچہ ان کا امیر بھی خوشامدی ہی تھا جس دن ہمیں حکومت ملی اور میں وزیر اعظم ہو گیا یہ لوگ میرے بوٹ چاٹا کریں گے۔گاندھی جی کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ان کے پیچھے چلنا چاہئے۔یہی وہ شخص ہے جس نے ہندوستان کو آزادی دلائی میرزا صاحب نے آکر دنیا کو کون سی آزادی دلائی تھی انہوں نے تو آکر غلام بنا دیا۔جب سو راج مل گیا۔تو یہ لوگ گاندھی جی کی سرداری تسلیم کریں گے اور اب تو گائے پر لڑتے ہیں۔پھر گائے ۶۵ کا پیشاب پیا کریں گے۔حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹ / جون ۱۹۳۱ء کے خطبہ جمعہ میں اس بیان کا ذکر کر کے اس پر مفصل تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابل میں گاندھی وغیرہ کی کچھ بھی حقیقت نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا کی طرف سے مامور ہو کر آئے پس جو بھی آپ کے مقابل پر اٹھے گا۔خواہ وہ گاندھی ہو یا کوئی اور اللہ تعالی اسے یوں کچل ڈالے گا جس طرح ایک جوں مار دی جاتی ہے۔