تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 273
تاریخ احمدیت جلد ۵ 269 خلافت لامیہ کا اٹھارہواں سال چوتھا باب (فصل دوم) تحفہ لارڈارون لارڈارون ۱۹۲۶ء میں ہندوستان میں وائسرائے ہو کر آئے اور ۱۹۳۱ء تک اس عہدہ پر فائز رہے۔لارڈارون نہایت خوش خلق ، نیک دل اور مذہبی آدمی تھے۔جنہوں نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں اعلیٰ اخلاقی نمونہ پیش کیا۔لار ڈارون جب ہندوستان سے رخصت ہونے لگے۔تو دوسروں نے تو ان کو مادی تجھے و تحائف پیش کئے مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ایک کتاب " تحفہ لارڈارون" کے نام سے (۲۷/ مارچ سے ۳۱ / مارچ ۱۹۳۱ء تک) پانچ روز میں تصنیف فرمائی اور جو احمد یہ وفد نے ۸/ اپریل ۱۹۳۱ء کو و اسرائیل لاج (دہلی) میں وائسرائے ہند لارڈارون کو نہایت خوبصورت سنہری کا سکیٹ اور خوشنما طشتری میں بطور تحفہ پیش کی۔تحفہ لارڈارون" تین ابواب پر مشتمل ہے۔پہلے باب میں حضور نے لارڈارون کو ان کے طریق عمل پر مبارکباد دینے اور ان کے جذبہ مذہبی کی تعریف کرنے کے بعد توجہ دلائی ہے کہ حکومت برطانیہ سے دانستہ یا نادانستہ ہندوستانی مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ان کی حکومت انگریزی حکومت کے قیام سے طبعاً تباہ ہو گئی ہے۔اور نہ صرف کرناٹک ، بنگال اودھ میسور ، حجر اور سندھ جیسی اسلامی ریاستیں مٹ گئی ہیں بلکہ مسلمانوں کا تمدن اور فوقیت بھی انگریزی حکومت کے نتیجہ میں تباہ ہو گئی حالانکہ غالب گمان تھا کہ اگر انگلستان کا قدم درمیان میں نہ آتا تو چند سال میں ایک نئی زبر دست اسلامی حکومت اسی طرح ہندوستان میں قائم ہو جاتی جس طرح مغلوں سے پہلے بار بار ہو چکی تھی۔لہذا اب جبکہ ہندوستان کی عنان حکومت ہندوستانیوں کے سپرد کی جانے والی ہے۔انگلستان کا فرض ہے کہ وہ دیکھے کہ اس تغیر کے نتیجہ میں مسلمان اور زیادہ تباہ نہ ہو جائیں۔بلکہ انہیں علمی، تمدنی اور مذہبی ترقی کرنے کا موقع حاصل رہے نہ یہ کہ جب وہ ہندوستان کو آزادی دے تو ہندوؤں کو اپنی پہلی حالت سے سینکڑوں گنا طاقتور اور مسلمانوں کو سینکڑوں گنا کمزور کر کے جائے۔اگر ایسا ہوا تو مسلمانوں کو ہمیشہ انگریزوں سے یہ جائز شکایت رہے گی کہ انہوں نے ہندوستان میں آکر یا اپنا فائدہ کیا یا ہندوؤں کا اس کے برعکس مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کی بجائے ان کی طاقت کو تو ڑ کر ہمیشہ کے لئے انہیں کمزور کر دیا۔پس میں اور تمام جماعت احمد یہ بلکہ ہر مسلمان آپ سے امید کرتا ہے کہ آپ انگلستان جا