تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 3
تاریخ احمدیت جلد ۵ 3 خلافت عثمانیہ کا پندرھواں سال مسلمانان عالم خصوصاً مسلمانان ہند اس زمانے میں بڑے نازک دور میں سے گذر رہے تھے۔اور حضور ایدہ اللہ تعالٰی جماعت احمدیہ کی قیادت ہی اس رنگ میں فرمارہے تھے کہ پوری جماعت مسلمانوں کے عمومی مفاد کے لئے زندہ اور متحرک مرکز بن جائے اس غرض کے لئے آپ نے بے ۱۹۲ء میں ۲۵لاکھ کا ایک ریز رو فنڈ قائم کرنے کی تحریک فرمائی- I تا سلسلہ کے عام بجٹ پر بوجھ ڈالے بغیر ہی دیگر مسلمانوں کی ترقی و یہود کا فرض بخوبی ادا ہو تار ہے اور اخراجات کی کمی کے باعث مفید اور اہم تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کی رفتار ست نہ ہو جائے۔چنانچہ اس سال یعنی ۱۹۲۸ء میں حضور نے جماعت احمدیہ کے سامنے جو سالانہ پروگرام رکھا اس میں تیسرے نمبر پر ریز روفنڈ کو بھی شامل فرمایا۔ان خصوصیات کے علاوہ ۱۹۲۸ء کو کئی اور پہلوؤں سے بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔مثلاً اسی سال جامعہ احمدیہ کا افتتاح ہوا۔حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب (خلف اکبر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام) نے قبول احمدیت کا اعلان کیا۔قادیان میں ریل آئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز کے قلم سے نہرو رپورٹ پر تبصرہ شائع ہوا۔اور فضائل القرآن" کے موضوع پر سالانہ جلسہ میں تقاریر کا ایمان افروز سلسلہ جاری کیا گیا۔۱۹۲۸ء کے واقعات کا سرسری جائزہ لینے کے بعد اب ہم اس سال کے حالات پر بالتفصیل روشنی ڈالتے ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے اخلاق عالیہ کا ایک یاد گار واقعہ خلفاء تاریخ اسلام راشدین رضوان الله علیم کی اسلامی مساوات کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔چونکہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بھی سلسلہ خلافت کے ایک ممتاز اور مبارک فرد ہیں اس لئے آپ کی سیرت مقدسہ بھی عہد اول کی یاد تازہ کر دیتی ہے اور آپ کی ذات میں ان مقدس بزرگوں کے اخلاق محمدی کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔۲۷ جنوری ۱۹۲۸ء کا واقعہ ہے کہ چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے کے ہاں دعوت ولیمہ تھی جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی اور جماعت کے بہت سے معززین مدعو تھے۔جس کمرے میں بیٹھنے کا انتظام تھا وہاں لکڑی کے دو تخت بچھے تھے جن پر حضور کے لئے نشست گاہ بنائی گئی تھی۔اور چونکہ وہ کافی لمبے چوڑے تھے اس لئے حضور کے ساتھ اور بھی کئی اصحاب بیٹھ سکتے تھے۔باقی کمرہ میں دیگر اصحاب کے بیٹھنے کے لئے فرش پر ہی انتظام کیا گیا تھا۔لیکن حضور جب کمرہ میں تشریف لائے اور اس جگہ رونق افروز ہونے کی درخواست کی گئی تو حضور نے اس وجہ سے کہ وہ جگہ کمرے کے دوسرے فرش سے کسی قدر اونچی ہے وہاں بیٹھنا گوارا نہ کیا اور فرمایا کہ اور دوست نیچے بیٹھیں تو