تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 2
تاریخ احمدیت - جلد 2 2 بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم وعلی عبدہ المسیح الموعود پہلا باب (فصل اول) خلافت عثمانیہ کا پندرھواں سال جلسہ ہائے سیرت النبی کی تجویز و انعقاد سے لے کر تقریر ”فضائل القرآن" تک خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال (جنوری ۱۹۲۸ء تادسمبر ۱۹۲۸ء بمطابق رجب ۱۳۴۶ھ تارجب ۱۳۴۷ھ ) الحمد للہ کہ ہم کو اس جلد سے خلافت ثانیہ کے ایک نئے دور میں داخل خلافت ثانیہ کا نیا دور ہونے کی توفیق عطا ہوئی ہے یہ نیا دور ۱۹۲۸ء سے شروع ہوتا ہے جس میں ایک طرف تحفظ ناموس رسول کی وہ تحریک خاص جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۹۲۷ء سے جاری کر رکھی تھی۔"سیرت النبی" کے عالمگیر جلسوں کی صورت میں نقطہ عروج تک پہنچ گئی اور دوسری طرف جماعت احمدیہ نے ہندوستان کے سیاسی حقوق سے متعلق برطانوی حکومت کے مقرر کردہ - - سائمن کمیشن سے تعاون کر کے مسلمانان ہند کے قومی وسیاسی مطالبات کی تحمیل کے لئے ایک نئے رنگ کی آئینی جد وجہد کا آغاز کر دیا۔" حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان بیرونی تحریکات میں راہ نمائی کا فرض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ جماعت کی اندرونی اصلاح و تربیت کی طرف بھی خصوصی توجہ مبذول فرمائی۔چنانچہ آپ نے ۱۹۲۸ء ہی میں احمدیوں میں قرآن مجید کا ذوق و شوق پیدا کرنے کے لئے ۱۹۱۷ء اور ۱۹۳۶ ء کے درسوں کی طرح مسلسل ایک ماہ تک قادیان میں درس قرآن دیا یہ وہی معرکتہ الآراء درس تھا جو بعد کو تفسیر کبیر جلد سوم کی صورت میں شائع ہوا اور جس نے دنیائے تفسیر میں ایک انقلاب عظیم برپا کر دیا۔۔