تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 252 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 252

۔248 خلافت عثمانیہ کا تاریخ احمدیت۔جلده انتخاب سے ہونا چاہئے ظاہر ہے کہ یہ تینوں نتیجے نظریہ خلافت کے بھی منافی تھے۔اور دنیاوی حکومتوں کے دستور اساسی کے بھی خلاف تھے کوئی پارلیمنٹ وزراء مقرر نہیں کرتی۔مگر کمیشن کی رائے تھی کہ مجلس شوری مجلس معتمدین مقرر کرے (ایضا صفحہ -۲۸ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صفحه ۴۷ ۲۹ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صفحہ ۱۲۸-۱۲۹ ۳۰ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صفحه ۲۳۵-۲۳۶ مجلس "تعلیم" کے ابتدائی ارکان ضروری قواعد اور اہم کوائف کی تفصیل انشاء اللہ ۱۹۴۲ء کے حصہ تاریخ میں آئینگی۔مندرجہ بالا حالات کے لئے ملاحظہ ہو کتاب " مجلس تعلیم " ( شائع کرده مجلس تعلیم قادیان- دسمبر ۱۹۳۵ء) مسلمانان ہند کی حیات سیاسی " میں لکھا ہے ۱۹۳۰ء میں جب کانگریس نے اپنے سول نافرمانی کے پروگرام کا جائزہ لینا شروع کیا تو مسلمانوں کی قدیم سیاسی جماعتوں میں سے ایک بھی اس کے ساتھ نہ ہوئی اور نہ مسلمان من حیث القوم اس تحریک میں شامل ہوئے البتہ احرار اور جمعیتہ العلماء کی مختصر جماعتیں گاندھی اردن سمجھوتے تک کانگریس کے ساتھ رہیں“۔(صفحہ ۱۳۵) الفضل ۹ مئی ۱۹۳۰ء صفحه ۱ تا ۴ ہفت روزہ "ملت" کراچی (۳۰ جون ۱۹۳۰ء) نے اس خطبہ کا قریباً پورا متن شائع کیا۔اس خطبہ کے بعد بھی حضور نے کانگریس اور اس کی تحریک پر کئی خطبے ارشاد فرمائے جنہوں نے سول نافرمانی کی آگ بجھانے میں بہت مدد دی۔۳۴ الفضل ۲۷ مئی ۱۹۳۰ء صفحہ ۲ کالم ۲-۳- الفضل ۳ جون ۱۹۳۰ء صفحہ ۲ کالم ۳۵- الفضل ۱۰ جون ۱۹۳۰ء صفحہ ۷ الفضل ۵ جون ۱۹۳۰ء صفحه ۱۰ ۳۷ ۲۳ اپریل ۱۹۳۰ء کو کانگریس کے دو سرحدی لیڈروں (عبد الغفار خاں وغیرہ) کی گرفتاری پر شہر کے حالات قابو سے باہر ہو گئے فوج بلائی گئی جس نے ہجوم پر رائفلوں اور مشین گنوں سے فائر کئے اس حادثہ میں ہیں افراد ہلاک ہو گئے۔حضرت خلیفہ المسیح کے مندرجہ بالا مکتوب میں اسی درد ناک واقعہ کی طرف اشارہ ہے مگر افسوس ڈاکٹر عاشق حسین صاحب بٹالوی جیسے مورخ حضرت امام جماعت احمدیہ کے اس احتجاج سے آشنا نہیں چنانچہ انہوں نے اپنی کتاب اقبال کے آخری دو سال میں لکھا ہے عین اس وقت جب صوبہ سرحد کے باشندوں کے خون سے پشاور کی سرزمین لالہ زار بن رہی تھی ہندوستان بھر میں کوئی اسلامی جماعت کوئی اسلامی انجمن کوئی اسلامی ادارہ ایسا نہیں تھا جو صدائے احتجاج بلند کرتا۔اور حکومت سے پوچھتا کہ یہ کس جرم کی پاداش میں مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔مسلم لیگ ختم ہو چکی تھی ابنائے زماں کی ناقدری کے ہاتھوں جناح وطن میں رہنے کے باوجود غریب الوطن کی زندگی بسر کرنے پر مجبور تھا محمد علی مرض الموت میں مبتلا اپنی زندگی کا آخری سال پورا کر رہا تھا۔(صفحہ ۳۴۴) الفضل ۵ جون ۱۹۳۰ء صفحه ۵۰۴ الفضل ۳ جون ۱۹۳۰ء صفحہ ا کالم ۳ الفضل کے جون ۱۹۳۰ ء اس خطبہ میں حضور نے کانگریس کے پروگرام پر زبر دست ناقدانہ روشنی ڈالتے ہوئے ثابت کر دکھایا کہ اس تحریک سے سراسر نقصان ہی نقصان ہے مسلمانوں کو بھی اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور ملک کو بھی نہیں (ایضا صفحہ ؟ کالم (۳) ام الفضل -۴ جون ۱۹۳۰ء صفحہ۔۲۔یہ اخبار تقسیم ملک کے بعد انبالہ منتقل ہو چکا ہے۔-۴۲- جیسا کہ ۱۹۲۹ء کے حالات میں ذکر آچکا ہے کانگریس پہلے ہی اپنی تحریک کے خلاف مسلمانان ہند میں اپنا سب سے بڑا حریف جماعت احمدیہ کو سمجھتی تھی کیونکہ یہی واحد فعال جماعت تھی جو مسلمانوں کے حقوق کے لئے سینہ سپر تھی چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کا بیان ہے کہ ڈاکٹر سید محمود صاحب ( کانگریس کے سیکرٹری - ناقل) نے میرے سامنے کہا کہ میں آپ کے سیاسی خیالات سے اختلاف رکھتا ہوں لیکن مذہبی لحاظ سے آپ کی اسلامی خدمات کا قائل ہوں ہمارے درد صاحب جب گاندھی جی سے ملنے گئے تو اس وقت بھی گاندھی جی کے سامنے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مسلمانوں میں اگر کوئی کام کرنے والی