تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 234 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 234

خلافت ثانیہ کاسترھواں سال 230 تاریخ احمدیت جلد ۵ 4A- ریزی کے مداح رہے "۔اخبار مسلم آواز کراچی جون ۱۹۵۲ء لکھتا ہے: " سر ظفر اللہ خاں کے متعلق قائد اعظم محمد علی جناح - ناقل ) اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ظفر اللہ خاں کا دماغ خداوند کریم کا زبر دست انعام ہے "۔ڈاکٹر عاشق حسین صاحب بٹالوی ڈاکٹر اقبال صاحب کا کر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔ڈاکٹر صاحب ایک سیاسی مفکر تھے۔عملی سیاستدان نہ تھے ایک عملی سیاستدان کی حیثیت سے ڈاکٹر صاحب کو دو مختلف موقعوں پر کام کرنے کا اتفاق ہوا تھا۔پہلا موقع اس وقت پیش آیا جب وہ ۱۹۲۷ ء میں پنجاب لیجسلیٹو کو نسل کے ممبر منتخب ہوئے اور دوسرا موقع وہ تھا۔جب انہیں ۱۹۳۱ء میں گول میز کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن جانا پڑا۔۔۔گول میز کانفرنس سے تو وہ اس قدر برگشته خاطر ہوئے تھے کہ استعفے دے کر واپس چلے آئے۔پنجاب لیجسلیٹو کونسل میں کامیاب ترین آدمی سر فضل حسین تھے۔اور گول میز کانفرنس کے مسلمان مندوبین میں سب سے زیادہ کامیاب آغا خاں اور چوہدری ظفر اللہ خاں ثابت ہوئے"۔مقتدر مسلم اصحاب کی آراء کے بعد اب ایک ہندو نامہ نگار کا نظریہ بھی ملاحظہ ہو - اخبار "تیج دہلی کے نامہ نگار نے لنڈن سے لکھا:- مسلم ڈیلی گیٹوں میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے خاص شہرت حاصل کرنی ہے حالانکہ وہ ہمیشہ فرقہ پرستی کا راگ گاتے رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنی قابلیت کے باعث سر محمد شفیع ، مسٹر جناح اور ڈاکٹر شفاعت احمد خان پر سبقت لے گئے ہیں "۔-A