تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 233
تاریخ احمدیت جلد ۵ 229 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال ہوئے۔سر محمد ظفر اللہ خاں تینوں گول میز کانفرنسوں اور ہندوستانی اصلاحات سے متعلق دونوں ایوانوں کی مشترکہ پارلیمنٹری کمیٹی کے مندوب تھے ان کا نفرنسوں اور کمیٹی میں آپ نے جو شاندار خدمات سرانجام دیں ان سے ہندوستان میں اور ہندوستان سے دلچسپی رکھنے والے برطانوی حلقوں میں آپ کی شہرت میں بہت اضافہ ہو گیا۔مشترکہ پارلیمنٹری کمیٹی کے چیئرمین لارڈ تلتھگو تھے۔اس کمیٹی میں سر محمد ظفر اللہ خاں نے جو کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے انہیں بے حد مقبولیت ہوئی اور انہوں نے برطانیہ کے صف اول کے بعض ممتاز مد برین مثلا لارڈ سینگے۔آرچ بشپ آف کنٹر بری۔سر آسٹن چیمبرلین اور مار کو کیس آف سالسبری کے رشتہ دوستی سے منسلک کر دیا سر محمد ظفر اللہ خاں نے انگلستان کے ہوشیار ترین مباحث اور سیاستدان مسٹر چرچل پر زبر دست جرح کی۔مسٹر چرچل کمیٹی کے سامنے شہادت دے کر فارغ ہوئے تو سر محمد ظفر اللہ خاں سے از راہ مزاح کہنے لگے آپ نے کمیٹی کے سامنے مجھے دو گھنٹے بہت بری طرح رگیدا ہے با ایں ہمہ جب سلطنت برطانیہ بلکہ تمام مہذب دنیا کو شدید ترین خطرہ لاحق ہونے کے پیش نظر تمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھنا پڑا تو ان دونوں کے باہم بہترین دوست بن جانے میں سر محمد ظفر اللہ خاں کی جرح حائل نہ ہو سکی۔مشترکہ منتخب کمیٹی میں اہم خدمات سر انجام دینے کی وجہ سے لارڈ لنلتھگو (چیئرمین کمیٹی و وائسرائے ہند - ناقل)۔۔۔۔کو آپ کا کام بنظر تعمق دیکھنے کا موقعہ مل گیا۔سر ماؤس گوائر۔۔۔۔گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء کے اصل تشکیل دہندہ میں سر محمد ظفر اللہ خاں کو کئی مواقع ان سے مل کر کام کے میسر آئے "۔جناب سید حبیب صاحب ایڈیٹر اخبار ” سیاست " لاہور (۱۹ اکتوبر ۱۹۳۴ء) نے لکھا:۔چوہدری صاحب بارہا مسلمانوں کی طرف سے پنجاب کو نسل میں نمائندہ بن کر آئے ایک دفعہ ان کو یہ اعزاز بلا مقابلہ نصیب ہوا۔کو نسل کے اندر مسلمانوں کے عام مفاد کی نمائندگی کرتے رہے۔سائمن کمیشن میں انہوں نے مسلم نمائندہ کی حیثیت سے کام کیا سر فضل حسین کی جگہ عارضی طور پر (وزیر) مقرر ہوئے اور گول میز کانفرنس میں مسلم نمائندہ کی حیثیت سے لئے گئے۔۔۔۔۔چودھری صاحب نے جہاں جہاں بھی مسلمانوں کی خدمت کی وہاں ہمیشہ مفاد ملت کا خیال رکھا کسی موقع پر ان کے کسی بدترین دشمن کو بھی یہ کہنے کی جرات نہیں ہوئی کہ انہوں نے قاد یا نیت کو مفاد اسلام پر ترجیح دی انہوں نے لندن میں اپنا اور مسلمانوں کا نام روشن کیا۔سر آغا خاں اور دوسرے مسلمان ان کی قابلیت محنت ، جانفشانی اور مفاد اسلام کے لئے ان کی عرق