تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 228 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 228

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 224 خلافت ثانیہ کا سترہواں سال نیابت غالبا گیارہ فیصد تسلیم کیا جائیگا باقی ۸۹ فیصدی میں سے ا۵ مسلمانوں کو کسی صورت میں نہیں مل سکتا کیونکہ اس طرح ہندوؤں کی نیابت ان کی آبادی کی نسبت سے بھی کم ہو جاتی ہے موجودہ کو نسل میں تمام ممبران میں سے ۲۵ فیصدی مسلمان ہیں پنجاب میں زیادہ سے زیادہ ۵۱ فیصدی تسلیم ہو سکے گا کیونکہ زیادہ رخ اس طرف ہے کہ حکومت ہند کی سفارش اس معاملے میں تسلیم کرلی جائے اور ان کی ایک سفارش یہ ہے کہ پنجاب میں ۴۹ فیصدی کے قریب مسلمانوں کو جداگانہ نیابت سے مل جائے اور کوئی دو فیصدی کے قریب مشترک نشستوں میں سے۔مثلا تمنداروں کی نشست اور بڑے زمینداروں کی نشستوں میں سے آئندہ آبادی کی نسبت بڑھنے کا اصول تسلیم کرانا مشکل ہے کیونکہ برلس۔اصول پیش کرتے ہیں کہ فہرست رائے دہندگان میں مسلمانوں کا تناسب آبادی کے مطابق کر دینا چاہئے اور اگر وہاں مناسب ٹھیک ہو جائے تو جس قدر آبادی میں تناسب بڑھے گا۔فہرست رائے دہندگان میں بھی بڑھ جائے گا اور اس صورت میں بڑھتی نسبت کے ساتھ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مشتر کہ انتخاب کی طرف آئیں نہ کہ اور زیادہ علیحدہ انتخابات پر قائم ہونے چاہئیں۔اور ان کی کثرت بھی بڑھتی جائے۔باقی مسلمان مطالبات کو وہ تسلیم کرتے ہیں مذہبی امور کے متعلق حفاظتی اصول نهایت وسیع الفاظ میں ہے فیڈرل سسٹم کو بھی ابھی تک تو تسلیم کیا جا رہا ہے دیکھیں آگے کیا ہو تا ہے اگر آپس میں کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا تو قدامت پسند اور لبرل گروہوں کے انگریز نمائندگان تو غالبا مسلم مطالبات کے ساتھ اظہار ہمدردی کریں گے لیکن لیبر والے اگر مخالفت نہیں کریں گے تو ان کی طبیعت مخالفت کی طرف ضرور مائل ہوگی۔سکھوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر پنجاب میں مسلمانوں کی کثرت قانو نا کر دی گئی تو خانہ جنگی ہو جائے گی۔گو اس تقریر کا اثر سکھوں کے لئے مفید نہیں ہو گا۔اقلیتوں کی کمیٹی کا ایک اجلاس پر سول ہوا تھا۔آئندہ اجلاس ۳۱ کو ہو گا۔اگر کوئی سمجھوتہ ممکن ہوا تو اس دن تک ہو چکا ہو گا۔ممکن ہے کہ کانفرنس کے اجلاس وسط جنوری یا تیسرے ہفتہ میں ختم ہو سکیں۔اس صورت میں خاکسار وسط فروری کے قریب انشاء اللہ واپس پہنچ سکے گا۔والسلام حضور کا غلام - خاکسار ظفر اللہ خان" بد الله الرحمن المجنى سیدنا و امامنا! السلام علیکم و رحمته مکتوب از لنڈن ۲ جنوری ۱۹۳۱ء اللہ و برکاتہ فرنٹیر کمیٹی نے کل رپورٹ کر دی ہے کہ صوبہ سرحدی کی کونسل میں ۶۵ فیصدی منتخب شده ممبر اور ۳۵ فیصدی نامزد شدہ ہوں نامزد شدہ میں سے ۲۰ فیصدی سے زائد سرکاری ممبر نہ ہوں۔بعض محکمہ جات جو دیگر صوبجات میں صوبجاتی ہوں گے اس صوبہ میں مرکزی ہوں گے دو وزراء دونوں غیر سرکاری جن میں سے ایک ضرور منتخب شدہ ہو۔