تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 211
- جلده 207 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال فصل چهارم سفر شملہ اور آل مسلم پارٹیز کانفرس میں شرکت حضرت معینہ اسما الان امید اللہ خلیفتہ المسیح تعالیٰ بنصرہ العزیز وسط ۱۹۳۰ء میں شملہ تشریف لے گئے اس سفر کو (جو ۲ جولائی ۱۹۳۰ء کو شروع ہو کر ۳ اگست ۱۹۳۰ء کو ختم ہوا) مسلمانان ہند کی سیاسی جدوجہد میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔دراصل شملہ میں مقیم مسلم زعماء نے اس کے لئے خاص طور پر تحریک کی تھی چنانچہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے ۲۵ جون ۱۹۳۰ء کو مندرجہ ذیل مکتوب حضور کی خدمت میں لکھا تھا:- سیدنا و امامنا السلام علیکم و رحمتہ الله و بركاته ، والا نامه شرف صدور لایا۔سائمن کمیشن کی رپورٹ کا خلاصہ حضور نے ملاحظہ فرمالیا ہو گا۔اکثر پہلوؤں سے مایوس کن ہے۔سردار حیات خاں اور دیگر احباب شملہ کی خواہش تھی کہ حضور ۴-۱۵ جولائی ۱۹۳۰ ء ناقل) کی کانفرنس میں ضرور شملہ شمولیت فرمائیں تا اس موقع پر مسلمانوں کی صحیح نمائندگی ہو سکے" آل مسلم پارٹیز کانفرنس نے کن امور پر غور کیا اور حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر کس طرح سیاسی راہنمائی فرمائی؟ اس پر لاہور کے ہفت روزہ اخبار " خاور " (۲۱ جولائی ۱۹۳۰ء) کا مندرجہ ذیل اداریہ کافی روشنی ڈالتا ہے۔ماہ حال کے اوائل میں آل انڈیا مسلم کانفرنس شملہ میں منعقد ہوئی۔پنجاب۔بمبئی - مدراس بنگال - یو پی۔سی پی اور دہلی سے نمائندگان آئے ہوئے تھے۔مولانا شوکت علی صاحب صدر جلسہ تھے تین دن تک ان حضرات نے سائن رپورٹ نہرو رپورٹ اور راؤنڈ ٹیبل کانفرنس پر بحث و تمحیص کی۔آخر جس قدر قرار دادیں پاس ہو ئیں وہ تقریبا دی تھیں جو جنوری ۱۹۲۹ء کو دہلی میں پاس ہوئی تھیں۔مجملا ان قرار دادوں کی کیفیت یوں بیان کی جاسکتی ہے کہ مسلمانوں نے فیڈرل نظام حکومت کی حمایت کرتے ہوئے مرکزی قانون ساز جماعت میں ساڑھے تینتیس فیصد نشستوں کا مطالبہ کیا۔گورنروں کے وسیع اختیارات کی مذمت کی۔بنگال اور پنجاب میں اپنی اکثریت کا مطالبہ کیا۔سندھ کی علیحدگی ، سرحد اور بلوچستان کو صوبجاتی آزادی اور سائمن کمیشن نے محکمہ فوج کے لئے جو سفارشات کی تھیں ان کی مخالفت کی۔ہماری رائے میں جن سیاسی حالات میں سے ہم گزر رہے ہیں ان کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اسی قسم کے مطالبات یا سیاسی خیالات کا اظہار کرتے۔عمر برٹش پارلیمینٹ بلا شبہ آج