تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 210
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 206 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال انتخاب وغیرہ امور کی نسبت نہرو کمیٹی کی تتمہ رپورٹ پر زبردست تنقید فرمائی اور حکومت برطانیہ کو صاف اور واضح لفظوں میں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ :- ان کی قوم بے شک اس وقت ہندوستان کی حاکم ہے لیکن وہ اس کی مالک نہیں ہے وہ آٹھ کروڑ مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے ہندوؤں کا غلام بنا دینے کا کوئی حق نہیں رکھتے وہ قوم جو غلامی کو مٹانے کے لئے اس قدر دعویدار ہے وہ آئندہ نسلوں کی نظر سے ہمیشہ کے لئے گر جائے گی۔اگر وہ اس آزادی کے زمانے میں آٹھ کروڑ مسلمانوں کو قلم کی ایک جنبش سے ایک ایسی قوم کا غلام بنانے کا فیصلہ کر دے گی جس نے اپنے غلاموں کے ساتھ دنیا کی تمام اقوام سے بد تر سلوک کیا ہے ہر ایک قوم کے غلام تھوڑے ، یا زیادہ عرصہ میں آزاد ہو گئے ہیں لیکن ہندوؤں کے غلام ہزاروں سال کے گزرنے کے بعد آج بھی اچھوت اقوام کے نام سے ہندوؤں کے ظالمانہ دستور غلامی پر شہادت دے رہے ہیں انگلستان کو یاد رکھنا چاہئے کہ جس وقت وہ ہندوستان کو آزادی دینے پر آمادہ ہو گا اسی وقت سے مسلمان آزاد ہوں گے اور ان کا یہ حق ہو گا کہ وہ یہ مطالبہ کریں کہ یا تو ان کے حقوق کی نگرانی کی جائے یا وہ اپنی آزاد ہستی کے برقرار رکھنے کے لئے مجبور ہوں گے کہ ہر ایک ایسے نئے نظام سے وابستہ ہونے سے انکار کر دیں۔جو ان کی آزادی کو کچل دینے والا ہو اور اپنے لئے خود کوئی ایسا نظام قائم کریں۔جس کے ماتحت وہ اپنی آزادی اور حریت قائم رکھ سکیں۔آزادی ہند کے بعد مسلمانوں کے مستقل اور آزاد نظام کے قیام کا یہی وہ عظیم الشان تخیل تھا جس پر چند ہفتے بعد آل پارٹیز کانفرنس نے اپنے سیاسی مطالبہ کی بنیاد رکھی۔اور جسے ڈاکٹر محمد اقبال صاحب نے اسی سال دسمبر ۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس الله منعقدہ (الہ آباد) میں ذرا۔وضاحت سے پیش فرمایا اور اس کے مطابق ۱۹۴۰ء میں قرار داد پاکستان منظور کی گئی۔