تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 209 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 209

تاریخ احمد بیت ، جلد ۵ 205 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال کانگریسی لیڈر مسز نائیڈو کی رہائی کے لئے اپیل ہندوستان کی مشہور کا نگریسی لیڈر مسٹر نائیڈو سول نافرمانی کے جرم میں نو ماہ کے لئے جیل میں ڈال دی گئی تھیں جس پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۵ جون ۱۹۳۰ء کو وائسرائے ہند لارڈارون) کے نام ایک مفصل خط لکھا جس میں مسز نائیڈو کی رہائی کے لئے پر زور اپیل کرتے ہوئے تحریر کیا کہ :- " قانون شکنی کے ارادہ کو تو میں کسی صورت میں بھی جائز نہیں سمجھ سکتا۔لیکن میرے خیال میں سیاسی جدوجہد کی بناء پر عورت کے لئے جیل خانہ کا مقام تجویز کرنا بھی ایک ایسا طریق ہے جو صرف انتہائی صورت میں اختیار کیا جانا چاہئے اور خصوصاً مسز نائیڈو جیسی عورت کے لئے جو ملک کے نہایت ممتاز اور روشن ضمیر لیڈروں میں سے ہونے کے علاوہ ایک مشہور شاعرہ بھی ہیں پس میں۔۔۔اپیل کرتا ہوں کہ آپ مسٹر نائیڈو کی آزادی کا اعلان کر کے اس امر کا ایک مزید ثبوت دیں کہ برطانیہ عورت کی عزت کرتا ہے۔۔۔۔میں اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ عورتوں کے ذریعہ سے قانون شکنی کی مہم سر کرانے کی خواہش ایک بزدلانہ خواہش ہے اور اگر ایسے موقع پر گورنمنٹ کو قانون کے احترام کے لئے کچھ کرنا پڑتا ہے تو اس کی آئینی ذمہ داری گورنمنٹ پر عائد نہیں ہو سکتی لیکن باوجود اس کے میرے نزدیک عورت کا شرف ایک ایسا امر ہے کہ اگر کانگریس والے اس کا خیال نہ بھی رکھیں تو بھی گورنمنٹ کو حتی الوسع اس کا خیال رکھنا چاہئے۔حضور نے وائسرائے ہند سے رہائی کی اپیل کرنے کے علاوہ کانگریس کے ارباب حل و عقد سے بھی خط و کتابت کی اور زور دیا کہ انہیں ملکی آزادی کی جدو جہد کے اس حصے میں عورتوں کی شرکت کو بالکل روک دینا چاہئے جس کا لازمی نتیجہ جیل خانہ ہے کیونکہ اس طرح خود کانگریس پر بھی بزدلی کا اعتراض آتا ہے۔نہرو کمیٹی کی تمہ رپورٹ پر تبصرہ سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے قلم سے نمرو رپورٹ پر تبصرہ شائع ہونے کے بعد نہرو کمیٹی نے اس کا ایک تمہ شائع کیا جس میں اپنی پہلی پیش کردہ تجاویز میں بعض اصلاحیں کیں حضرت خلیفتہ المسیح ایده اللہ تعالیٰ نے اصلاح کے ان حصوں پر جو مسلم قوم سے تعلق رکھتے تھے ایک مختصر مگر جامع تبصرہ کیا۔جو الفضل المئی ۱۹۳۰ء (صفحہ ۳-۴) میں شائع ہوا۔اس تبصرہ میں حضور نے تعلیم ، اجارہ زمین ، حکومت کی زبان ، صوبجاتی حکومتوں پر مرکزی حکومت کی بالادستی ، صوبائی گورنروں کے تقرر نئے صوبوں کی تجویز قانون سازی، فرقه دارانه